اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 36
ایسا مشورہ دیتا ہے یا دل میں ایسی آرزوئیں رکھتا ہے وہ خدا اور رسول کا نافرمان ہے“۔(یعنی اگر مسلمان دین کے نام پر لڑائی کریں تو ان کی وصیتوں اور حدود اور فرائض سے باہر چلا گیا ہے۔(حقیقة المهدی - روحانی خزائن جلد14 صفحه 431 تا 432) اب دیکھ لیں آجکل مسلمانوں کے حالات اس کی تائید کر رہے ہیں۔اگر یہ جنگیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتیں تو اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ ﴿وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنين ) (سورة الروم: آیت 48) اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر فرض ٹھہرتا ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ کی تائید نہیں مل رہی تو سوچنا چاہئے۔اگر جنگیں لڑنے کا زیادہ ہی شوق ہے تو پھر اسلام کے نام پر تو نہ لڑی جائیں۔اس زمانے میں مسلمانوں کا دوسری قوموں سے شکست کھانا یہ بھی اس بات کی خدا تعالیٰ کی طرف سے فعلی شہادت ہے کہ جو مسیح آنے کو تھاوہ آ گیا ہے۔اور يَضَعُ الْحَرْب کے تحت دینی جنگوں کا جو حکم ہے یہ موقوف ہو چکا ہے۔ہاں اگر جہاد کرنا ہے تو دلائل سے کرو، براہین سے کرو۔اب مسلمانوں کی اسلام کے نام پر لڑی جانے والی جنگوں کے نتائج تو جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت کے مطابق مسلمانوں کے خلاف ہیں اور ہر آنکھ رکھنے والے کو نظر آرہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا تو وعدہ ہے کہ میں مومن کی مدد کرتا ہوں اگر مومن ہو تو۔تو دوہی باتیں ہیں یا یہ کہ یہ مسلمان مومن نہیں ہیں۔یا یہ جنگوں کا وقت غلط ہے اور زمانہ ختم ہو چکا ہے۔لیکن یا درکھیں ان لوگوں میں یہ دونوں باتیں ہی ہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مان کر پھر مومن تو نہیں رہ سکتے۔اور مسیح اور مہدی کے دعوے کے بعد ، اس کی بات نہ مان کر اللہ تعالیٰ کی مدد کے حقدار نہیں ٹھہر سکتے۔پس اس زمانے میں مسیح و مہدی کا جو دعویٰ کرنے والا ہے وہ یقینا سچا ہے۔36