اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 30
کریں تا کہ جس حد تک اور جتنی سعید روحیں بیچ سکتی ہیں بچ جائیں، جوشر فاء بیچ سکتے ہیں بیچ جائیں۔احمدی اپنے اپنے حلقے میں کھل کر ہر مذہب والے کو سمجھائیں کہ ہر مذہب کی تعلیم کے مطابق جس نے آنا تھا وہ آچکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اب میں وہ حدیث جو ابو داؤد نے اپنی صحیح میں لکھی ہے ناظرین کے سامنے پیش کر کے اس کے مصداق کی طرف ان کو تو جہ دلاتا ہوں۔سو واضح ہو کہ یہ پیشگوئی جو ابو داؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حراث ماوراء النہر سے یعنی سمرقند کی طرف سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا۔جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہوگی۔الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا دراصل یہ دونوں پیشگوئیاں متحد المضمون ہیں اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔مسیح کے نام پر جو پیشگوئی ہے اس کی علامات خاصہ در حقیقت دو ہی ہیں۔ایک یہ کہ جب وہ مسیح آئے گا تو مسلمانوں کی اندرونی حالت کو جو اس وقت بغایت درجہ بگڑی ہوئی ہوگی اپنی صحیح تعلیم سے درست کر دے گا“۔اس بارہ میں شروع کے خطبوں میں بھی ذکر ہو چکا ہے۔خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی حالت بگڑی ہوئی ہے۔اور کسی مصلح کو چاہتی ہے۔مسیح موعود کا خزانے لٹانے سے مراد فرمایا کہ : ” اپنی صحیح تعلیم سے درست کر دے گا اور ان کے روحانی افلاس اور باطنی ناداری کو بکلی دور فرما کر جواہرات علوم و حقائق و معارف ان کے سامنے رکھ دے گا“۔یعنی یہ خزانے ہیں اور وہ ان کے سامنے روحانی علم کی وضاحت کرے گا۔پھر فرمایا: ” یہاں تک کہ وہ لوگ اس دولت کو لیتے لیتے تھک جائیں گے اور ان میں سے کوئی طالب حق روحانی طور پر 30