اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 29

اگر یہ کہا جائے کہ احادیث صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہیں کہ مسیح ابن مریم آسمان سے اترے گا اور دمشق کے منارہ شرقی کے پاس اس کا اتر نا ہو گا اور دوفرشتوں کے کندھوں پر اس کے ہاتھ ہوں گے تو اس مُصرح اور واضح بیان سے کیوں کر انکار کیا جائے؟“۔( یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو صاف صاف اور کھلا کھلا بیان ہے اس سے کس طرح انکار کیا جا سکتا ہے، یہ لوگ کہتے ہیں۔تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ:) اس کا جواب یہ ہے کہ آسمان سے اترنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ سچ مچ خا کی وجود آسمان سے اترے بلکہ صحیح حدیثوں میں تو آسمان کا لفظ بھی نہیں ہے۔اور یوں تو نزول کا لفظ عام ہے۔جو شخص ایک جگہ سے چل کر دوسری جگہ ٹھہرتا ہے اس کو بھی یہی کہتے ہیں کہ اس جگہ اترا ہے۔جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں جگہ لشکر اترا ہے یا ڈیرا اترا ہے کیا اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ لشکر یا وہ ڈیرا آسمان سے اترا ہے۔ماسوائے اس کے خدائے تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں صاف فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آسمان سے ہی اترے ہیں۔بلکہ ایک جگہ فرمایا ہے کہ لوہا بھی ہم نے آسمان سے اتارا ہے۔پس صاف ظاہر ہے کہ یہ آسمان سے اتر نا اس صورت اور رنگ کا نہیں ہے جس صورت پر لوگ خیال کر رہے ہیں۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3صفحہ132-133) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حدیثیں اس کی وضاحت سے بھری پڑی ہیں۔لوگ خود تو اتنا علم نہیں رکھتے اور علماء غلط راہنمائی کرتے ہیں۔آپ نے اس سے آگے فرمایا: اس لئے یہودیوں نے بھی غلطی کھائی تھی اور حضرت عیسی کو قبول نہیں کیا تھا“۔تو بہر حال یہ ساری لمبی باتیں اور تفصیلیں ہیں، خطبے میں تو بیان نہیں ہوسکتیں۔اب جس طرح حالات بدل رہے ہیں، احمدیوں کو بھی چاہئے کہ ان باتوں کو کھول کر اپنے ماحول میں بیان 29