اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 18

ہے۔اگر پھر بھی اس کے بعد کوئی ڈھٹائی دکھاتا ہے تو پھر ایسے لوگ اس زمرے میں آتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی لعنت ڈالی ہے اور آخرت میں بھی۔جیسا کہ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا﴾ (سورة الاحزاب: آیت 58) یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت ڈالی ہے اور آخرت میں بھی اور اس نے ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔یہ حکم ختم نہیں ہو گیا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں۔آپ کی تعلیم ہمیشہ زندگی دینے والی تعلیم ہے۔آپ کی شریعت ہر زمانے کے مسائل حل کرنے والی شریعت ہے۔آپ کی پیروی کرنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب ملتا ہے۔تو اس لئے یہ جو تکلیف ہے یہ آپ کے ماننے والوں کو جو تکلیف پہنچائی جا رہی ہے کسی بھی ذریعہ سے اس پر بھی آج صادق آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات زندہ ہے وہ دیکھ رہی ہے کہ کیسی حرکتیں کر رہے ہیں۔پس دنیا کو آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے۔دنیا کو ہمیں بتانا ہوگا کہ جو اذیت یا تکلیف تم پہنچاتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی سزا آج بھی دینے کی طاقت رکھتا ہے۔اس لئے اللہ اور اس کے رسول کی دلآزاری سے باز آؤ۔لیکن جہاں اس کے لئے اسلام کی تعلیم اور آنحضرت ی کے اسوہ کے بارے میں دنیا کو بتانا ہے وہاں اپنے عمل بھی ہمیں ٹھیک کرنے ہوں گے۔کیونکہ ہمارے اپنے عمل ہی ہیں جو دنیا کے منہ بند کریں گے اور یہی ہیں جو دنیا کا منہ بند کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے رپورٹ میں بتایا تھا وہاں ایک مسلمان عالم پر یہی الزام منافقت کا لگایا جارہا ہے کہ ہمیں کچھ کہتا ہے اور وہاں جا کے کچھ کرتا ہے، ابھارتا ہے۔وہ شاید میں نے رپورٹ پڑھی نہیں۔تو ہمیں اپنے ظاہر اور باطن کو، اپنے قول و فعل کو ایک کر کے یہ عملی نمونے دکھانے ہوں گے۔18