اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 19
صد الله جھنڈے جلانے یا توڑ پھوڑ کرنے سے آنحضرت علی کی عزت قائم نہیں ہو سکتی مسلمان کہلانے والوں کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ قطع نظر اس کے کہ احمدی ہیں یا نہیں، شیعہ ہیں یا سنی ہیں یا کسی بھی دوسرے مسلمان فرقے سے تعلق رکھنے والے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جب حملہ ہو تو وقتی جوش کی بجائے ،جھنڈے جلانے کی بجائے، توڑ پھوڑ کرنے کی بجائے ، ایمبیسیوں پر حملے کرنے کی بجائے اپنے عملوں کو درست کریں کہ غیر کو انگلی اٹھانے کا موقع ہی نہ ملے۔کیا یہ آگیں لگانے سے سمجھتے ہیں کہ آنحضرت علی کی عزت اور مقام کی نعوذ باللہ صرف اتنی قدر ہے کہ جھنڈے جلانے سے یا کسی سفارتخانے کا سامان جلانے سے بدلہ لے لیا۔نہیں ہم تو اس نبی کے ماننے والے ہیں جو آگ بجھانے آیا تھا ، وہ محبت کا سفیر بن کر آیا تھا، وہ امن کا شہزادہ تھا۔پس کسی بھی سخت اقدام کی بجائے دنیا کو سمجھا ئیں اور آپ کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں بتائیں۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل اور سمجھ دے لیکن میں احمدیوں سے یہ کہتا ہوں کہ ان کو تو پتہ نہیں یہ عقل اور سمجھ آئے کہ نہ آئے لیکن آپ میں سے ہر بچہ، ہر بوڑھا، ہر جوان ، ہر مرد اور ہر عورت بیہودہ کارٹون شائع ہونے کے ردعمل کے طور پر اپنے آپ کو ایسی آگ لگانے والوں میں شامل کریں جو کبھی نہ بجھنے والی آگ ہو، جو کسی ملک کے جھنڈے یا جائیدادوں کو لگانے والی آگ نہ ہو جو چند منٹوں میں یا چند گھنٹوں میں بجھ جائے۔اب بڑے جوش سے لوگ کھڑے ہیں (پاکستان کی ایک تصویر تھی ) آگ لگا رہے ہیں جس طرح کوئی بڑا معرکہ مار رہے ہیں۔یہ پانچ منٹ میں آگ بجھ جائے گی، ہماری آگ تو ایسی ہونی چاہئے جو ہمیشہ لگی رہنے والی آگ ہو۔وہ آگ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کی 19