اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 7
ان یوروپین دنیا کے حکومتی نمائندوں یا اخباری نمائندوں کی طرف سے بھی جواظہار رائے کیا گیا ان کی رپورٹیں منگوائی ہیں۔اس میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جنہوں نے اخبار کے اس اقدام کو پسند نہیں کیا۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہیں نہ کہیں سے کسی وقت ایسا شوشہ چھوڑا جاتا ہے جس سے ان گندے ذہن والوں کے ذہنوں کی غلاظت اور خدا سے دوری نظر آ جاتی ہے۔اسلام سے بغض اور تعصب کا اظہار ہوتا ہے۔لیکن میں یہ کہوں گا که بد قسمتی سے مسلمانوں کے بعض لیڈروں کے غلط رد عمل سے ان لوگوں کو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔یہی چیزیں ہیں جن سے پھر یہ لوگ بعض سیاسی فائدے بھی اٹھاتے ہیں۔پھر عام زندگی میں مسلمان کہلانے والوں کے رویے ایسے ہوتے ہیں جن سے یہاں کی حکومتیں تنگ آ جاتی ہیں۔مثلاً کام نہ کرنا، زیادہ تر یہ کہ گھر بیٹھے ہوئے ہیں ، سوشل ہیلپ (Social Help) لینے لگ گئے۔یا ایسے کام کرنا جن کی اجازت نہیں ہے یا ایسے کام کرنا جن سے ٹیکس چوری ہوتا ہو اور اس طرح کے اور بہت سے غلط کام ہیں۔تو یہ موقع مسلمان خود فراہم کرتے ہیں اور یہ ہوشیار تو میں پھر اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔بعض دفعہ ظلم بھی ان کی طرف سے ہو رہا ہوتا ہے لیکن مسلمانوں کے غلط رد عمل کی وجہ سے مظلوم بھی یہی لوگ بن جاتے ہیں اور مسلمانوں کو ظالم بنا دیتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ شاید مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت اس توڑ پھوڑ کو اچھا نہیں سمجھتی لیکن لیڈرشپ یا چند فسادی بد نام کرنے والے بدنامی کرتے ہیں۔اب مثلاً ایک رپورٹ ڈنمارک کی ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا، ڈینش عوام کا رد عمل یہ ہے کہ اخبار کی معذرت کے بعد مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس معذرت کو مان لیں اور اس مسئلے کو پر امن طور پر ختم کریں تا کہ اسلام کی اصل تعلیم ان تک پہنچے اور Violence سے بیچ جائیں۔پھر یہ ہے کہ ٹی وی پر پروگرام آرہے ہیں کہتے ہیں کہ یہاں کے بچے ڈینشوں کے 7