اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 8
خلاف رد عمل دیکھ کر کہ ان کے ملک کا جھنڈا جلایا جا رہا ہے، ایمبیسیز جلائی جا رہی ہیں بہت ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔وہ یہ محسوس کر رہے ہیں گویا جنگ کا خطرہ ہے اور ان کو مار دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔اب عوام میں بھی اور بعض سیاستدانوں میں بھی اس کو دیکھ کر انہوں نے ناپسند کیا ہے اور ایک رد عمل یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مسلمانوں کی اس دلآزاری کے بدلے میں خود ہمیں ایک بڑی مسجد مسلمانوں کو بنا کر دینی چاہئے جس کا خرچ یہاں کی فرمیں ادا کریں اور کوپن ہیگن کے سپریم میئر نے اس تجویز کو پسند کیا ہے۔پھر مسلمانوں کی اکثریت بھی جیسا کہ میں نے کہا کہتی ہے کہ ہمیں معذرت کو مان لینا چاہئے لیکن ان کے ایک لیڈر ہیں جو 27 تنظیموں کے نمائندے ہیں وہ یہ بیان دے رہے ہیں کہ اگر چہ اخبار نے معذرت کر دی ہے تاہم وہ ایک بار پھر ہمارے سب کے سامنے آ کر معذرت کرے تو ہم مسلمان ملکوں میں جا کر بتائیں گے کہ اب تحریک کو ختم کر دیں۔اسلام کی ایک عجیب خوفناک تصویر کھینچنے کی یہ کوشش کرتے ہیں۔بجائے صلح کا ہاتھ بڑھانے کے ان کا رجحان فساد کی طرف ہے۔ان فسادوں سے جماعت احمدیہ کا تو کوئی تعلق نہیں مگر ہمارے مشنوں کو بھی فون آتے ہیں ، بعض مخالفین کی طرف سے دھمکیوں کے خط آتے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے۔اللہ تعالیٰ جہاں جہاں بھی جماعت کی مساجد ہیں،مشن ہیں محفوظ رکھے اور ان کے شر سے بچائے۔بہر حال جب غلط رد عمل ہو گا تو اس کا دوسری طرف سے بھی غلط اظہار ہوگا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ جب ان لوگوں نے اپنے رویے پر معافی وغیرہ مانگ لی اور پھر مسلمانوں کا رد عمل جب سامنے آتا ہے تو اس پر باوجود یہ لوگ ظالم ہونے کے، بہر حال انہوں نے ظلم کیا ایک نہایت غلط قدم اٹھایا، اب مظلوم بن جاتے ہیں۔تو اب دیکھیں کہ وہ ڈنمارک میں معافیاں مانگ رہے ہیں اور مسلمان لیڈر اڑے ہوئے ہیں۔پس ان مسلمانوں کو بھی ذرا 8