اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 106

کے تم اپنے مذہب میں آزاد ہو۔) -3 تیسری شرط یہ تھی کہ تمام باشندگان کی جانیں اور اموال محفوظ ہوں گے اور ان کا احترام کیا جائے گا سوائے اس کے کہ کوئی شخص ظلم یا جرم کا مرتکب ہو۔(اس میں بھی اب کوئی تفریق نہیں ہے۔جرم کا مرتکب چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو اس کو بہر حال سزا ملے گی۔باقی حفاظت کرنا سب کا مشتر کہ کام ہے ، حکومت کا کام ہے۔) -4۔پھر یہ کہ ہر قسم کے اختلاف اور تنازعات رسول اللہ علی الی اللہ کے سامنے فیصلہ کیلئے پیش ہوں گے اور ہر فیصلہ خدائی حکم کے مطابق کیا جائے گا“۔(اور خدائی حکم کی تعریف یہ ہے کہ ہر قوم کی اپنی شریعت کے مطابق۔فیصلہ بہر حال آنحضرت عبیدی اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے کیونکہ اس وقت حکومت کے مقتدر اعلیٰ آپ تھے۔اس لئے آپ نے فیصلہ فرمانا تھا لیکن فیصلہ اس شریعت کے مطابق ہوگا اور جب یہودیوں کے بعض فیصلے ایسے ہوئے ان کی شریعت کے مطابق تو اس پر ہی اب عیسائی اعتراض کرتے ہیں یا دوسرے مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ جی ظلم ہوا۔حالانکہ ان کے کہنے کے مطابق ان کی شرائط پر ہی ہوئے تھے۔) پھر ایک شرط یہ ہے کہ ” کوئی فریق بغیر اجازت رسول اللہ (صلی اللہ ) کے جنگ کیلئے نہیں نکلے گا۔اس لئے حکومت کے اندر رہتے ہوئے اس حکومت کا پابند ہونا ضروری ہے۔اب یہ جو شرط ہے یہ آجکل کی جہادی تنظیموں کیلئے بھی راہنما ہے کہ جس حکومت میں رہ رہے ہیں اس کی اجازت کے بغیر کسی قسم کا جہاد نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ اس حکومت کی فوج میں شامل ہو جائیں اور پھر اگر ملک لڑے یا حکومت تو پھر ٹھیک ہے۔) ہر علیل پھر ایک شرط ہے کہ اگر یہودیوں اور مسلمانوں کے خلاف کوئی قوم جنگ کرے گی تو وہ ایک دوسرے کی امداد میں کھڑے ہوں گے“۔(یعنی دونوں میں سے کسی فریق کے خلاف اگر جنگ ہوگی تو دوسرے کی امداد کریں گے اور دشمن سے صلح کی صورت میں مسلمان 106