اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 105
کرنے کے اور کچھ نہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے فتح خیبر کے دوران تو رات کے بعض نسخے مسلمانوں کو ملے۔یہودی آنحضرت عبد السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہماری کتاب مقدس ہمیں واپس کی جائے اور رسول کریم صلی اللہ نے صحابہ کو حکم دیا کہ یہود کی مذہبی کتابیں ان کو واپس کردو۔(السيرة الحلبية ـ باب ذكر مغازية عل الله غزة خيبر۔جلد 3 صفحه 49) باوجود اس کے کہ یہودیوں کے غلط رویے کی وجہ سے ان کو سزائیں مل رہی تھیں آپ نے یہ برداشت نہیں فرمایا کہ دشمن سے بھی ایسا سلوک کیا جائے جس سے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔یہ چند انفرادی واقعات میں نے بیان کئے ہیں اور میں نے ذکر کیا تھا کہ مدینہ میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔اُس معاہدے کے تحت آنحضرت عبیدی اللہ نے جو شقیں قائم فرمائی تھیں، نے جو روایات پہنچی ہیں ان کا میں ذکر کرتا ہوں کہ کس طرح اس ماحول میں جا کر آپ نے رواداری کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اُس معاشرہ میں امن قائم فرمانے کیلئے آپ کیا چاہتے تھے؟ تاکہ معاشرہ میں بھی امن قائم ہو اور انسانیت کا شرف بھی قائم ہو۔مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے یہودیوں سے جو معاہدہ فرمایا اس کی چند شرائط یہ تھیں کہ -1۔مسلمان اور یہودی آپس میں ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے خلاف زیادتی یا ظلم سے کام نہ لیں گے۔( اور باوجود اس کے کہ ہمیشہ اس شق کو یہودی توڑتے رہے مگر آپ احسان کا سلوک فرماتے رہے یہاں تک کہ جب انتہا ہوگئی تو یہودیوں کے خلاف مجبوراً سخت اقدام کرنے پڑے۔) 2۔دوسری شرط یہ تھی کہ ہر قوم کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔( باوجود مسلمان اکثریت 105