اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 104
اس لئے نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے نبی کو کسی نے کچھ کہا ہے۔اس کی میں اجازت نہیں دے سکتا۔میرا احترام کرنے کیلئے تمہیں دوسرے انبیاء کا بھی احترام کرنا ہوگا۔تو یہ تھے آپ کے انصاف اور آزادی اظہار کے معیار جو اپنوں غیروں سب کا خیال رکھنے کیلئے آپ نے قائم فرمائے تھے۔بلکہ بعض اوقات غیروں کے جذبات کا زیادہ خیال رکھا جاتا تھا۔انسانی اقدار کو قائم کرنے اور مذہبی رواداری کے لئے آنحضرت علی کا بے مثال عملی نمونہ آپ کے انسانی اقدار قائم کرنے اور آپ کی رواداری کی ایک اور مثال ہے۔روایت میں آتا ہے عبد الرحمن بن ابی لیلہ بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے۔جب ان کو بتایا گیا کہ یہ ذمیوں میں سے ہے تو دونوں نے کہا کہ ایک دفعہ نبی کریم للہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ احتراما کھڑے ہو گئے۔آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے۔اس پر رسول کریم عبیدی اللہ نے فرمایا کہ اليْسَتْ نَفْسًا کیا وہ عليه وسلم انسان نہیں ہے۔(صحیح بخارى كتاب الجنائز، باب من قام لجنازة يهودى) پس یہ احترام ہے دوسرے مذہب کا بھی اور انسانیت کا بھی۔یہ اظہار اور یہ نمونے ہیں جن سے مذہبی رواداری کی فضا پیدا ہوتی ہے۔یہ اظہار ہی ہیں جن سے ایک دوسرے کے لئے نرم جذبات پیدا ہوتے ہیں اور یہ جذبات ہی ہیں جن سے پیار، محبت اور امن کی فضا پیدا ہوتی ہے۔نہ کہ آجکل کے دنیا داروں کے عمل کی طرح کہ سوائے نفرتوں کی فضا پیدا 104