اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 102
آزاد کر دیں، اس کی ماں کا رورو کے برا حال ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ میں تو اس کو پہلے ہی آزاد کر چکا ہوں۔یہ آزاد ہے۔جانا چاہتا ہے تو چلا جائے اور کسی پیسے کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا بیٹے چلو۔بیٹے نے جواب دیا کہ آپ سے مل لیا ہوں اتنا ہی کافی ہے۔کبھی موقع ملا تو ماں سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔لیکن اب میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتا۔میں تو اب آنحضرت علی یا اللہ کا غلام ہو چکا ہوں آپ سے جدا ہونے کا مجھے سوال نہیں۔ماں باپ سے زیادہ محبت اب مجھے آپ علی ہی اللہ سے ہے۔زید کے باپ اور چچا وسلم وغیرہ نے بڑا زور دیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔زید کی اس محبت کو دیکھ کر آنحضرت ل اللہ نے فرمایا تھا کہ زید آزاد تو پہلے ہی تھا مگر آج سے یہ میرا بیٹا ہے۔اس صورتحال کو دیکھ کر پھر زید کے باپ اور چچا وہاں سے اپنے وطن واپس چلے گئے اور پھر زید ہمیشہ وہیں رہے۔( ملخص از دیباچه تفسير القرآن صفحه 112) تو نبوت کے بعد تو آپ کے ان آزادی کے معیاروں کو چار چاند لگ گئے تھے۔اب تو آپ کی نیک فطرت کے ساتھ آپ پر اُترنے والی شریعت کا بھی حکم تھا کہ غلاموں کو ان کے حقوق دو۔اگر نہیں دے سکتے تو آزاد کر دو۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی اپنے غلام کو مار رہے تھے تو آنحضرت علی اللہ نے دیکھا اور بڑے غصے کا اظہار فرمایا۔اس پر ان صحابی نے اس غلام کو آزاد کر دیا۔کہا کہ میں ان کو آزاد کرتا ہوں۔تو آنحضرت عبید اللہ نے فرمایا تم نہ آزاد کرتے تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آتے۔(صحيح مسلم کتاب الایمان۔باب صحبة الممالیک حدیث نمبر 4308) تو اب دیکھیں یہ ہے آزادی۔پھر دوسرے مذہب کے لوگوں کیلئے اپنی اظہار رائے کا 102