اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 93
گواہ ہے کہ آپ مجسم رحم تھے اور آپ کے سینے میں وہ دل دھڑک رہا تھا کہ جس سے بڑھ کر کوئی دل رحم کے وہ اعلیٰ معیار اور تقاضے پورے نہیں کر سکتا جو آپ نے کئے ، امن میں بھی اور جنگ میں بھی ، گھر میں بھی اور باہر بھی ، روزمرہ کے معمولات میں بھی اور دوسرے مذاہب والوں سے کئے گئے معاہدات میں بھی۔آپ نے آزادی ضمیر ، مذہب اور رواداری کے معیار قائم کرنے کی مثالیں قائم کر دیں۔اور پھر جب عظیم فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو جہاں مفتوح قوم سے معافی اور رحم کا سلوک کیا ، وہاں مذہب کی آزادی کا بھی پورا حق دیا اور قرآن کریم کے اس حکم کی اعلیٰ مثال قائم کر دی کہ لَا اكْـــاه فـــى الـديـن (سورة البقره: آیت 257) کہ مذہب تمہارے دل کا معاملہ ہے، میری خواہش تو ہے کہ تم سچے مذہب کو مان لو اور اپنی دنیا و عاقبت سنوار لو، اپنی بخشش کے سامان کر لو لیکن کوئی جبر نہیں۔آپ کی زندگی رواداری اور آزادی مذہب و ضمیر کی ایسی بے شمار روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ان میں سے چند ایک کا میں ذکر کرتا ہوں۔کون نہیں جانتا کہ مکہ میں آپ کی دعویٰ نبوت کے بعد کی 13 سالہ زندگی کتنی سخت تھی اور کتنی تکلیف دہ تھی اور آپ نے اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ یھیم نے کتنے دکھ اور مصیبتیں برداشت کیں۔دوپہر کے وقت تپتی ہوئی گرم ریت پر لٹائے گئے ، گرم پتھر ان کے سینوں پر رکھے گئے۔کوڑوں سے مارے گئے ، عورتوں کی ٹانگیں چیر کر مارا گیا، قتل کیا گیا شہید کیا گیا۔آپ پر مختلف قسم کے مظالم ڈھائے گئے۔سجدے کی حالت میں بعض دفعہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر آپ کی کمر پر رکھ دی گئی جس کے وزن سے آپ اٹھ نہیں سکتے تھے۔طائف کے سفر میں بچے آپ پر پتھراؤ کرتے رہے، بیہودہ اور غلیظ زبان استعمال کرتے رہے۔ان کے سردار ان کو ہلا شیری دیتے رہے ، ان کو ابھارتے رہے۔آپ اتنے زخمی ہو گئے کہ سر سے پاؤں تک لہولہان ہیں ، اوپر سے بہتا ہوا خون جوتی میں بھی آ گیا۔93