اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 99
ہے۔تو رسول اللہ صل اللہ نے اُسے خوشخبری دی، مبارکباددی اسلام قبول کرنے کی اور اسے حکم دیا کہ عمرہ کرو، اللہ قبول فرمائے گا۔جب وہ مکہ پہنچا تو کسی نے کہا کہ کیا تو صابی ہو گیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں محمد رسول اللہ علب اللہ پر ایمان لے آیا ہوں اور خدا کی قسم اب آئندہ سے یمامہ کی طرف سے گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں آئے گا یہانتک کہ نبی ﷺ اسکی اجازت مرحمت فرما دیں۔(بخاری کتاب المغازى باب وفد بنى حنيفه۔وحديث تُمَامة بن اثال) ایک دوسری روایت میں ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ عمرہ کرنے گئے تو کفار مکہ نے ان کے اسلام کا معلوم ہونے پر انہیں مارنے کی کوشش کی یا مارا۔اس پر انہوں نے کہا کہ کوئی دانہ نہیں آئے گا۔اور یہ اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ کی طرف سے اجازت نہ آجائے۔چنانچہ اس نے جاکے اپنی قوم کو کہا اور وہاں سے غلہ آنا بند ہو گیا۔کافی بری حالت ہو گئی۔پھر ابوسفیان آنحضرت علی اللہ کی خدمت میں درخواست علی عليه لے کر پہنچے کہ اس طرح بھوکے مر رہے ہیں اپنی قوم پر کچھ رحم کریں۔تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ غلہ اس وقت ملے گا جب تم مسلمان ہو جاؤ بلکہ فورا ثمامہ کو پیغام بھجوایا کہ یہ پابندی ختم کرو، یہ ظلم ہے۔بچوں، بڑوں ، مریضوں ، بوڑھوں کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ان کو مہیا ہوتی چاہئے۔(السيرة النبوية لابن هشام أسر ثمامة ابن أثال الحنفى واسلامه۔خروجه الى مكّة وقصته مع قريش) تو دوسرے یہ دیکھیں کہ قیدی تمامہ سے یہ نہیں کہا کہ اب تم ہمارے قابو میں ہو تو مسلمان ہو جاؤ۔تین دن تک ان کے ساتھ حسن سلوک ہوتا رہا اور پھر حسن سلوک کے بھی اعلیٰ معیار قائم ہوئے۔آزاد کر دیا اور پھر دیکھیں ثمامہ بھی بصیرت رکھتے تھے اس آزادی کو حاصل 99