عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page vii of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page vii

تعارف مصنف حضرت مرزا مسرور احمد خلیقه اصبح الامس ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت احمدیہ عالمگیر کے امام اور حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے پانچویں خلیفہ ہیں۔آپ 15 ستمبر 1950ء کور بوہ پاکستان میں صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب مرحوم اور صاحبزادی ناصرہ بیگم احمد مرحومہ کے ہاں پیدا ہوئے۔22 اپریل 2003ء کو آپ کا انتخاب جماعت احمدیہ مسلمہ کے پانچویں امام کے طور پر ہوا اور آپ ایک عالمگیر جماعت کے روحانی سربراہ اور انتظامی راہنما کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔آج اس جماعت کے افراد کروڑوں کی تعداد میں دوصد سے زاید ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔خلیفہ اسیح الخامس منتخب ہونے کے بعد آپ نے دُنیا میں امن کے بارہ میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ ایک مہم شروع کی۔آپ کی راہنمائی میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے نیشنل چیپٹر ز نے ایسی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں جن سے اسلام کی سچی اور امن پسند تعلیم کا پر چار ہورہا ہے۔احمدی مسلمان ، مسلم اور غیر مسلم دنیا میں پیغام امن کے لاکھوں بلکہ کروڑوں اشتہار تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کی مجالس منعقد کر رہے ہیں اور قرآن کریم کی نمائشیں لگائی جارہی ہیں تا کہ قرآن کریم کا مقدس پیغام دنیا تک پہنچ سکے۔ان مبارک کوششوں کو دُنیا بھر کے میڈیا میں پذیرائی حاصل ہورہی ہے اور یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اسلام امن ، حب الوطنی اور خدمت انسانیت کا علمبردار ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 2004ء میں سالانہ قومی امن کا نفرنس کا آغاز کیا جس میں امن اور ہم آہنگی کے خیالات اور جذبات کے فروغ کے لیے تمام طبقہ ہائے فکر کے افراد شامل ہوتے ہیں۔اس کانفرنس میں ہر سال و زرا ہمبران پارلیمنٹ، سیاست دان، مذہبی راہنما اور دیگر معززین شامل ہوتے ہیں۔