عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 30

30 دور جدید میں اکثر حکومتیں جمہوری طرز پر ہیں اس لیے اگر کوئی فرد واحد یا گروہ حکومت کو بدلنا چاہے تو انہیں یہ کام مناسب جمہوری طریق کے مطابق ہی کرنا چاہیے اور اپنی آواز پہنچانے کے لیے حق رائے دہی کا سہارا لینا چاہیے۔ووٹ ذاتی ترجیحات یا ذاتی مفادات کی وجہ سے نہیں ڈالنے چاہئیں بلکہ اس بارہ میں اسلامی تعلیم یہ ہے کہ کسی کو اپنے ووٹ کے استعمال کا حق وطن سے وفاداری اور محبت کی روح اور قومی بھلائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے استعمال کرنا چاہیے۔چنانچہ حق رائے دہی استعمال کرتے وقت ذاتی ترجیحات، امیدوار اور پارٹی کونہیں بلکہ انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھنا چاہیے جن سے یہ جانچا جا سکے کہ کون سا امیدوار یا کون سی پارٹی ملک وقوم کی ترقی میں مددگار ہوگی۔حکومت ایک بہت بڑی امانت ہے اس لیے یہ صرف اس پارٹی کو دی جانی چاہیے جسے ایک ووٹر دیانت داری سے سب سے مناسب اور سب سے زیادہ حق دار سمجھتا ہے یہ ہے حقیقی اسلام اور یہ ہے کچی وفاداری! قرآن کریم کی سورۃ نمبر 4 آیت نمبر 59 میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ امانتیں صرف ان لوگوں کے سپر د کرو جو اس کے اہل ہوں اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے وقت انصاف اور ایمان داری سے فیصلہ کرو۔پس وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ عنان حکومت صرف انہی لوگوں کو تھمائی جائے جو اس کے صحیح حق دار ہیں تا کہ ملک وقوم ترقی کرے اور ترقی کی دوڑ میں دنیا کی دوسری اقوام کے شانہ بشانہ ہو۔دنیا میں کئی جگہ عوام حکومتی پالیسیوں کے خلاف ہڑتال اور احتجاج میں حصہ لیتے ہیں۔نیز تیسری دنیا کے بعض ممالک میں احتجاج کرنے والے سرکاری یا شہریوں کی املاک اور جائیدادیں لوٹتے اور انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔حالانکہ ان کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ محبت کی وجہ سے کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے افعال کا وطن سے وفاداری اور محبت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ غیر مجرمانہ اور پر امن احتجاج یا ہڑتال بھی معاشرہ پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ پر امن احتجاج بھی اکثر قومی معیشت کو لاکھوں کا نقصان پہنچاتا ہے۔ایسا رویہ کسی طور پر بھی قوم سے وفاداری کی مثال نہیں سمجھا جا سکتا۔اس سلسلہ میں ایک سنہرا اصول جو بانی جماعت احمدیہ مسلمہ نے دیا ہے یہ ہے کہ ہر طرح کے حالات میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ ، انبیاء اور حکام وقت کا مطیع ہو کر رہنا چاہیے۔یہ بعینہ وہ تعلیم ہے جو قرآن کریم نے دی ہے۔لہذا اگر کوئی بھی ملک ہڑتال اور احتجاج کی اجازت دیتا