عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 29
وطن سے محبت کے متعلق اسلامی تعلیمات آخری انجام جہاں خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں کی طرف ہی توجہ نہیں دلاتا بلکہ یہ ہمیں ایسے تمام چھوٹے اور ابتدائی معاملات سے بھی متنبہ کرتا ہے جو انسان کو پُر خطر نتائج کی طرف لے جاتے ہیں۔پس اگر اسلامی تعلیم پر مکمل عمل کیا جائے تو تمام معاملات ابتدائی مراحل میں ہی حل ہو جاتے ہیں قبل اس کے کہ حالات بے قابو ہو جائیں۔مثال کے طور پر ایک معاملہ جس میں ایک ملک کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں وہ مال کی حرص ہے۔اکثر لوگ مادی خواہشات سے مغلوب ہو جاتے ہیں جو رفتہ رفتہ قابو سے باہر ہوتی چلی جاتی ہیں اور بالآخر ایسی خواہشات لوگوں کو بغاوت پر آمادہ کر دیتی ہیں۔لہذا ایسی چیزیں بالآخر وطن سے غداری کا سبب بنتی ہیں۔اس کی وضاحت یہ ہے کہ عربی میں بغی کا لفظ اُن لوگوں یا ایسے کاموں کے لیے مستعمل ہے جو اپنے وطن کو نقصان پہنچاتے اور غلط کاموں میں ملوث ہو کر دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دھوکہ دیتے اور غیر قانونی یا ناجائز طریق پر چیزوں کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو تمام حدود سے تجاوز کرتے اور نقصان اور خرابی کا باعث بنتے ہیں۔اسلام یہ بتاتا ہے کہ ایسے لوگوں سے وفاداری کی اُمید اور توقع نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ وفاداری اور اعلیٰ اخلاق ایک دوسرے کا اٹوٹ انگ ہیں۔وفاداری اعلیٰ اخلاق کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی اور اعلیٰ اخلاق وفاداری کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔اعلیٰ اخلاق کے متعلق لوگوں کا نظریہ ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے لیکن اسلام تو صرف خدا کی رضا کے حصول کے مقصد کے گرد ہی گھومتا ہے۔چنانچہ مسلمانوں کو یہی ہدایت ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے اعمال بجالائیں جن سے خدا خوش ہو۔الغرض اسلامی تعلیمات کے مطابق خدا تعالیٰ نے ہرقسم کی دھوکہ دہی ، بغاوت اور غداری سے سختی کے ساتھ منع فرما دیا ہے خواہ وہ اپنے وطن کے ساتھ ہو یا اپنی حکومت کے ساتھ ! کیونکہ بغاوت یا حکومت کے خلاف کام کرنا ملکی امن و امان کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔اندرونی بغاوت اور مخاصمت ہمیشہ بیرونی لڑائی جھگڑوں کو دعوت دیتی ہے اور غیروں کو اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ اندرونی خلفشار کا فائدہ اُٹھا ئیں۔لہذا ملک وقوم سے بے وفائی کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔پس ہر وہ چیز جو وطن کو نقصان پہنچاسکتی ہے وہ بغی کے زمرہ میں آتی ہے جسے میں بیان کر چکا ہوں۔ان باتوں کے پیش نظر وطن سے وفاداری کا یہ تقاضا ہے کہ انسان صبر کا مظاہرہ کرے، اعلیٰ اخلاق دکھائے اور ملکی قوانین کی پابندی کرے۔29