عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 137
امنِ عالم۔وقت کی ضرورت بسم اللہ الرحمن الرحیم معزز مہمانان گرامی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ سب پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔سب سے پہلے میں اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس تقریب کے تمام منتظمین اور بالخصوص ممبر پارلیمنٹ محترم کنول جیت سنگھ بخشی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے موقع دیا کہ میں آج آپ سے خطاب کروں۔نیز میں آپ سب لوگوں کا بھی ممنون ہوں جو میرا اخطاب سننے کے لیے یہاں تشریف لائے۔بلاشبہ اس پارلیمنٹ ہاؤس میں مختلف سیاست دان اور ممبران پارلیمنٹ باقاعدگی سے ملک کی ترقی کے لیے پالیسیاں اور حکمت عملیاں بنانے اور قانون سازی کے لیے میٹنگز کرتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں مجھے یقین ہے کہ کئی ایک سیکولر اور دنیوی راہنما یہاں تشریف لاکر اپنے علم، مہارت اور تجربات کی بنیاد پر آپ سے خطاب کر چکے ہوں گے۔تاہم شاید ہی کبھی آپ سے کوئی مذہبی راہنما اور بالخصوص مسلمان راہنما مخاطب ہوا ہو۔تاہم مجھے بطور امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر جو خالصہ ایک اسلامی تنظیم ہے اور جس کا واحد مقصد حقیقی اسلامی تعلیمات کا فروغ ہے۔آپ کی طرف سے خطاب کا موقع دیا جانا آپ کی کشادہ دلی اور بردباری کی اعلیٰ مثال ہے۔میں آپ کے اس پر خلوص رویہ پر آپ کا بے حد ممنون ہوں۔شکریہ کے بعد اب میں اپنے خطاب کے بنیادی حصہ کی طرف آتا ہوں۔میں اسلام کی خوب صورت تعلیم کے بارہ میں چند باتیں آپ کے گوش گزار کروں گا اور اُس موضوع پر بات کروں گا جو میری دانست میں وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ ہے امنِ عالم کا قیام، سیکولر نقطۂ نظر سے آپ میں سے اکثر سیاست دان انفرادی حیثیت میں بھی اور حکومتی سطح پر بھی حصول امن کے لیے کوشاں ہیں۔آپ یقیناً خلوص نیت سے یہ کوششیں کر رہے ہیں اور آپ کو ان کوششوں میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہوگی۔پچھلے کئی سالوں سے آپ کی حکومت دوسری بڑی حکومتوں کو عالمی امن اور باہمی ہم آہنگی کے حصول کے لیے مشورے بھی دیتی رہی ہوگی۔