عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 128 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 128

128 صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی ماننے والوں پر حملے کیے گئے۔بعض کو تو انتہائی بہیمانہ اور ظالمانہ تشدد کر کے جان سے ماردیا گیا کہ جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔یہاں تک کہ عمر رسیدہ مسلمان مردوں، خواتین اور بچوں تک کو بھی نہیں چھوڑا گیا اور وحشیانہ اور بہیمانہ بر بریت کا نشانہ بنایا گیا۔اس ظلم و ستم کے باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کوئی بدلہ نہ لیا بلکہ اعلان عام کروا دیا کہ تم میں سے کسی پر بھی کوئی پکڑ نہیں کیونکہ میں نے تم سب کو معاف کر دیا ہے۔میں محبت اور امن وسلامتی کا نبی ہوں۔خدا تعالیٰ کی صفت "السلام" کا سب سے زیادہ علم مجھے دیا گیا ہے۔وہی خدا ہے جو سلامتی بخشتا ہے۔میں تمہاری ساری سابقہ زیادتیاں تمہیں معاف کرتا ہوں اور میں تمہیں سلامتی اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہوں۔تم مکہ میں آزادی سے رہ سکتے ہو اور تم اپنے اپنے مذہب پر بھی آزادی سے عمل پیرا ہو سکتے ہو۔کسی کے ساتھ کسی قسم کا جبر اور زبردستی نہیں کی جائے گی۔بعض انتہائی سرگرم کفار سزا کے خوف سے مکہ چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ انہوں نے مسلمانوں پر ہر قسم کے ظلم و ستم کی حدیں توڑ دی تھیں۔تا ہم اس بے مثال ہمدردی اور نرمی اور عفو و درگزر نیز فقید المثال سلامتی اور ہم آہنگی کے اظہار کو دیکھ کر ان کفار کے رشتہ داروں نے انہیں مکہ میں لوٹ آنے کا کہا۔انہیں بتایا گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلامتی ،تحفظ اور امان دینے کے علاوہ ان سے کوئی سلوک نہیں کیا۔یوں وہ ظالم بھی مکہ لوٹ آئے۔جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور رحم ملاحظہ کیا تو اپنی خوشی سے مشرف بہ اسلام ہو گئے۔میں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ تاریخ میں محفوظ ہے اور غیر مسلم مؤرخین اور مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔یہ حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں اور یہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔چنانچہ اسلام اور بانی اسلام پر شدت پسندی اور اس قسم کے دیگر الزامات لگانا انتہائی نا انصافی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جب اس قسم کے الزام لگائے جاتے ہیں تو ہمیں انتہائی تکلیف اور رنج ہوتا ہے۔میں اس بات کا ایک بار پھر اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ آج ہماری جماعت یعنی جماعت احمد یہ مسلمہ ہی اسلام کی حقیقی اور امن پسند تعلیم پر کماحقہ عمل پیرا ہے اور اس کے عین مطابق زندگی بسر کر رہی ہے۔میں اس بات کا اعادہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ انتہا پسند تنظیموں اور انفرادی طور پر بعض مخصوص لوگوں کے