عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 129
اسلام۔امن اور محبت کا مذہب 129 نفرت انگیز افعال شنیعہ کا حقیقی اسلامی تعلیمات سے دُور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔انصاف کا تقاضا ہے کہ گروہوں یا افراد کے ذاتی مفادات کو اسلامی تعلیمات کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔اس طرح کے افعال کو جواز بنا کر کسی بھی مذہب یا اس کے بانی پر نا جائز اعتراضات نہیں اُٹھائے جانے چاہئیں۔وقت کی اہم ضرورت ہے کہ عالمی امن اور ہم آہنگی کے قیام کی کوشش میں سب لوگ ایک دوسرے کا اور تمام مذاہب کا احترام قائم کریں بصورت دیگر خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔دنیا ایک گلوبل و پیچ بن گئی ہے۔لہذا باہمی احترام کے فقدان اور امن کے فروغ کے لیے باہمی اتحاد پیدانہ ہونے کی صورت میں صرف مقامی آبادی یا شہر یا کسی ایک ملک کو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ در حقیقت یہ تمام دنیا کی تباہی پر منتج ہوگا۔ہم سبھی پچھلی دو عالمی جنگوں کی ہولناک تباہیوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔بعض ممالک کی پالیسیوں کی وجہ سے ایک اور عالمی جنگ کے آثار دنیا کے افق پر نمودار ہورہے ہیں۔اگر عالمی جنگ چھڑ گئی تو مغربی دنیا بھی اس کے دیر تک رہنے والے تباہ کن نتائج سے متاثر ہوگی۔آئیں خود کو اس تباہی سے بچالیں۔آئیں اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو جنگ کے مہلک اور تباہ کن نتائج سے محفوظ کرلیں کیونکہ یہ ملک جنگ ایٹمی جنگ ہی ہوگی اور دُنیا جس طرف جارہی ہے اس میں یقینی طور پر ایک ایسی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے۔ان ہولناک نتائج سے بچنے کے لیے انصاف، دیانتداری اور ایمانداری کو اپنانا ہوگا اور وہ طبقے جو نفرتوں کو ہوا دے کر امن عالم کو تباہ کرنے کے درپے ہیں ان کے خلاف متحد ہو کر اُنہیں روکنا ہوگا۔میری خواہش اور دلی دُعا ہے کہ خدا تعالی بڑی طاقتوں کو اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں اور فرائض انتہائی منصفانہ اور درست طریق پر نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین آخر پر میں ایک بار پھر آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ کوشش کر کے وقت نکال کر تشریف لائے۔اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا فضل فرمائے۔آپ کا بہت بہت شکریہ۔