عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 97
97 امن کی کنجی۔بین الاقوامی اتحاد اگر ہم اقوام متحدہ کی ووٹنگ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ ویٹو پاور کا استعمال صرف ان لوگوں کے حق میں نہیں ہوا جن پر ظلم کیا گیا اور جو حق پر تھے بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مواقع پر ویٹو پاور کا غلط استعمال بھی کیا گیا اور ظلم ختم کرنے کی بجائے ظالم کی مدد کی گئی۔یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ ڈھکی چھپی ہو یا جس کا کسی کو علم نہ ہو۔بہت سے مبصرین اس بارہ میں کھل کر اظہار خیال کرتے اور لکھتے رہتے ہیں۔اسلام کی ایک اور خوبصورت تعلیم یہ ہے کہ معاشرہ میں امن کا قیام اس بات کا متقاضی ہے کہ اپنے غصہ پر ایمانداری اور انصاف کے اصولوں کی خاطر قابو پایا جائے۔اسلام کی ابتدائی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ حقیقی مسلمان ہمیشہ اس اصول پر کار بندر ہے اور جنہوں نے اس اصول کی پابندی نہیں کی ان پر آنحضرت ﷺ نے بڑی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔اس کے باوجود بد قسمتی سے آج ایسی صورت حال نہیں ہے۔ایسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں کہ فوجیں اور سپاہی جو امن کے قیام کے لیے بھجوائے جاتے ہیں وہ ایسے کام کرتے ہیں جو ان کے مقاصد کے سراسر منافی ہوتے ہیں۔مثلاً بعض ممالک میں باہر سے آئے ہوئے فوجیوں نے مخالفین کی لاشوں سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا۔تو کیا اس طریق سے امن قائم ہو سکتا ہے؟ ایسے سلوک کا رد عمل پھر متاثرہ ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ تمام دنیا میں اس کا اظہار ہوتا ہے اور ظاہری بات ہے کہ اگر مسلمانوں سے برا سلوک کیا گیا ہو تو مسلمان انتہا پسند اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دنیا کا امن برباد ہو جاتا ہے۔حالانکہ ایسا کرنا اسلامی تعلیم کے سراسر منافی ہے۔اسلام تو ی تعلیم دیتا ہے کہ امن صرف اس صورت میں قائم ہوسکتا ہے کہ ظالم اور مظلوم دونوں کی اس طریق پر مدد کی جائے کہ جس میں کسی فریق کی طرف داری نہ ہو، کوئی مذموم مقصد نہ ہو اور ہر قسم کی دشمنی سے پاک ہو۔امن تب قائم ہوتا ہے جب تمام فریقوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔چونکہ وقت محدود ہے اس لیے میں صرف ایک بات اور بیان کروں گا اور وہ یہ کہ اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ دوسروں کی دولت اور ذرائع پر حاسدانہ نظر نہ رکھی جائے۔ہمیں دوسروں کی املاک کی حرص نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ بھی امن کی تباہی کا باعث ہے۔اگر امیر ممالک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم ترقی یافتہ ممالک کے ذرائع پر نظر رکھیں گے اور ان کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو طبعا بے چینی بڑھے گی۔جہاں مناسب ہو وہاں امیر ممالک اپنی خدمات کے صلہ میں کچھ مناسب معاوضہ لے سکتے ہیں جبکہ باقی ذرائع کا اکثر حصہ