عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 98

ان ممالک کی ترقی اور مقامی لوگوں کا معیار زندگی بڑھانے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔انہیں ترقی کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے اور ان کے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ وہ بھی کوشش کر کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کے معیار تک پہنچ سکیں کیونکہ امن اسی صورت قائم ہو سکتا ہے۔اگر ایسے ملکوں کے راہنما ایماندار نہیں ہیں تو مغربی ممالک یا ترقی یافتہ ممالک کو از خود ایسے ملکوں کو امداد فراہم کر کے ان کی ترقی کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو کہی جاسکتی ہیں لیکن وقت کی کمی کے باعث میں جو بیان کر چکا ہوں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔یقیناً جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ اسلام کی حقیقی تعلیم کی عکاسی کرتا ہے۔یہاں آپ کے ذہنوں میں ایک سوال اٹھ سکتا ہے اس لیے میں پہلے ہی اس کا جواب دے دوں ، وہ یہ کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہی اسلام کی سچی تعلیمات ہیں تو ہم مسلمان دنیا میں اتنی تقسیم اور فتنہ و فساد کیوں دیکھتے ہیں؟ اس کا جواب میں پہلے دے چکا ہوں جب میں نے ایک مصلح کے آنے کی ضرورت بیان کی تھی، ہمارا ایمان ہے کہ جماعت احمد یہ مسلمہ کے بانی ہی وہ معلم ہیں۔ہم جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے اس سچی تعلیم کو جس قدر ممکن ہو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔میں آپ سب سے بھی یہ گزارش کرتا ہوں کہ آپ اپنے اپنے دائرہ کار میں ان معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے کوشش کریں تا کہ تمام دنیا میں دیر پا امن کا قیام ہو۔اگر ہم اس مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو دنیا کا کوئی بھی حصہ جنگ کی ہولنا کیوں اور تباہ کن اثرات سے محفوظ نہ رہے گا۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام لوگوں کو توفیق دے کہ وہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کو پس پشت ڈالیں۔یہ مغرب کی ترقی یافتہ قومیں ہیں جو آج کی دنیا میں زیادہ اقتدار اور طاقت رکھتی ہیں، اس لیے باقی قوموں کی نسبت آپ کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ ان انتہائی اہم امور کی طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ دیں۔آخر پر میں آپ سب کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ میری باتیں سننے کے لیے اپنا وقت نکال کر تشریف لائے۔اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔آپ کا بہت بہت شکریہ۔98