عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 40
سب سے بھی یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے حلقہ اثر میں اس امن کے پیغام کو پھیلا ئیں۔ہر ایک کو یہ باور کرانا بہت ضروری ہے کہ امن عالم کے قیام کے لیے آج اعلیٰ اور اُصولوں پر بنی اخلاقی قدروں کی پہلے سے بہت بڑھ کر ضرورت ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے تو جہاں کہیں اور جب کبھی بھی موقع ملتا ہے ہم کھل کر اپنے اس نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہیں کہ دنیا تباہی اور بربادی کے جس راستہ پر گامزن ہے اسے بچانے کا صرف ایک طریق ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم سب پیار، باہمی ہمدردی اور احساس وحدت کو پھیلانے کی کوشش کریں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا اپنے خالق کو جو ایک خدا ہے، پہچان لے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خالق کی معرفت ہی ہے جو ہمیں اُس کی مخلوق سے محبت اور ہمدردی کی طرف لے جاتی ہے اور جب یہ جذ بہ ہماری زندگیوں کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر ہم خدا کے پیار کو حاصل کرنے والے ہو جاتے ہیں۔ہم دنیا میں متواتر صدائے امن بلند کرتے رہتے ہیں اور ہمارے دل دُکھی انسانیت کا درد اور تکلیف محسوس کرتے ہیں یہ کرب ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم بنی نوع انسان کی تکالیف کو کم کرنے اور اس دُنیا کو جس میں ہم رہتے ہیں ایک بہتر جگہ بنانے کی کوشش کریں اور انہی کوششوں کی ایک جھلک ہماری آج کی تقریب میں بھی نظر آ رہی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔آپ سب لوگ بھی انہی نیک خواہشات کے حامی ہیں۔علاوہ ازیں میں بار بار سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کو قیام امن کی کوشش کرنے کی طرف توجہ دلا چکا ہوں مگر ان تمام کوششوں کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ساری دنیا میں بے چینی اور خلفشار پھیلتا اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔آج کی دنیا میں تصادم، بے چینی اور بعض ممالک میں عوام آپس میں ہی لڑائی اور جنگ کر رہے ہیں اور بعض ممالک میں عوام حکومت سے برسر پیکار ہیں یا اس کے برعکس حکام اپنے ہی عوام کے خلاف صف آرا ہیں۔دہشت گرد عناصر اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے انتشار اور افراتفری کی آگ بھڑکا رہے ہیں اور معصوم خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو اندھا دھند قتل کر رہے ہیں۔بعض ممالک میں سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات کے حصول کے لیے باہم مل کر اپنے ملک کی بہبود کے لیے کام کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے لڑ رہی ہیں۔ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کچھ حکومتیں اور ممالک بعض دوسرے ممالک کے قدرتی ذخائر کو متواتر لچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں، دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی 40