عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 39

ایٹمی جنگ کے تباہ کن نتائج اور کامل انصاف کی اشد ضرورت شہد ہو اور ہم الہ کی حلاوتکےبعد حضر ا ا ا ا ا ا الا علی بنصرہ العزیز نے فرمایا: تمام مہمانان کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ایک سال کے بعد آج پھر میں اپنے تمام معزز مہمانوں کو اس تقریب میں خوش آمدید کہتا ہوں۔میں آپ سب لوگوں کا بہت ممنون ہوں کہ آپ نے آج اس تقریب میں شمولیت کے لیے وقت نکالا۔آپ میں سے اکثر مہمان اس تقریب کی نوعیت سے بخوبی واقف ہیں جو امن کانفرنس کے نام سے جانی جاتی ہے۔ہر سال یہ تقریب جماعت احمدیہ مسلمہ کی طرف سے منعقد کی جاتی ہے اور دنیا میں قیام امن کی خواہش کی تکمیل کے سلسلہ میں ہماری متعدد کاوشوں میں سے ایک کاوش ہے۔آج ہمارے ساتھ کچھ نئے دوست بھی یہاں شامل ہیں جو اس تقریب میں پہلی مرتبہ شامل ہو رہے ہیں جبکہ باقی احباب ہمارے پرانے دوست ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے ہماری کاوشوں میں ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔بہر حال آپ سب لوگ اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور ہمارے ساتھ ساری دنیا میں قیام امن کی خواہش میں شریک ہیں اور اسی تمنا کی وجہ سے آپ آج کی اس تقریب میں شریک ہیں۔آپ سب لوگ جو مختلف طبقات فکر، قومیتوں اور مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔آج اس دلی تمنا کے ساتھ یہاں تشریف لائے ہیں کہ دُنیا میں ہر طرف محبت، پیار اور دوستی کا دور دورہ ہو۔یہ وہ طریق اور اقدار ہیں جن کی آرزودُنیا کی بڑی اکثریت اپنے دلوں میں رکھتی ہے اور آج دنیا کو اسی چیز کی ضرورت ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہم یہ کا نفرنس ہر سال منعقد کرتے ہیں اور ہر دفعہ ہم سب ان جذبات اور اُمیدوں کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم اپنی زندگیوں میں دنیا میں امن قائم ہوتا ہوا دیکھ لیں اور اسی لیے میں ہر سال آپ سب سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ جس سے بھی آپ کے روابط ہوں اور جہاں کہیں بھی آپ کو موقع ملے امن کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔مزید برآں جن لوگوں کی سیاسی پارٹیوں یا گورنمنٹ سے وابستگی ہیں۔میں ان