عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 26

26 قومی نقطۂ نظر سے یہ اُصول اور بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔کسی بھی ملک کے شہری کے لیے ضروری ہے کہ اُس کا اپنے وطن سے رشتہ حقیقی و فاداری پر مبنی ہو۔اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ پیدائشی طور پر اس ملک کا باسی ہے یا بعد میں ایمیگریشن یا کسی اور طریق سے اُس نے اُس ملک کی شہریت حاصل کی ہے۔وفاداری ایک بہت بڑی خوبی ہے جس کے بہترین مظہر اور نمونہ خدا کے انبیاء ہوتے ہیں۔خدا سے اُن کی محبت اور تعلق اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ ہر حال اور تمام معاملات میں اُن کے پیش نظر الہی احکام ہوتے ہیں اور وہ کما حقہ احکام الہی پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح خدا سے اُن کی وفاداری کے اُسلوب اور بہترین معیار کا پتہ چلتا ہے۔لہذا صرف انبیاء ہی کی وفاداری کے معیار کومثال اور نمونہ کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔تا ہم اس پر مزید بات کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حقیقی وفاداری کا مطلب کیا ہے؟ اسلامی تعلیمات کے مطابق وفاداری کی صحیح تعریف اپنے عہد و پیمان کو ہر سطح اور ہر طرح کے حالات میں مشکلات کے باوجود غیر مشروط طور پر ادا کرنا ہے۔اسلامی تعلیم کی رُو سے یہ وفاداری کا حقیقی معیار ہے۔قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ انہیں اپنے وعدے اور عہد ضرور پورے کرنے چاہئیں کیونکہ خدا اُن سے اُن کے تمام عہدوں کے متعلق جو اُنہوں نے کیے پوچھے گا۔مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام عہدوں کو پورا کریں جس میں خدا تعالیٰ سے کیے گئے عہد بھی شامل ہیں اور دوسرے تمام وعدے بھی جو انہوں نے اپنے اپنے درجہ اور عہدہ کی رعایت سے گئے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ چونکہ مسلمانوں کا دعوی ہے کہ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ اور مذہب سب سے زیادہ اہم ہیں لہذا خدا سے وفاداری کا عہد ان کی اولین ترجیح ہے۔نیز خدا سے کیا ہوا عہد باقی ہر چیز پر فوقیت رکھتا ہے جسے وہ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ وطن سے وفاداری اور ملکی قوانین کی پاسداری کا عہد ثانوی حیثیت کا حامل ہے۔لہذا عین ممکن ہے کہ کسی موقع پر وہ وطن کے وعدہ کو خدا کے لیے قربان کرنے پر تیار ہو جائیں۔اس خدشہ کے جواب میں سب سے پہلے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم