عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 15

عالمی بحران پر اسلامی نقطۂ نظر کیے گئے تھے۔میں یہاں اس کی بہت زیادہ مثالیں تو پیش نہیں کر سکتا مگر تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ فتح مکہ کے بعد حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ان لوگوں سے کوئی انتقام نہیں لیا تھا جنہوں نے آپ کو شدید تکالیف دی تھیں۔آپ نے نہ صرف انہیں معاف کر دیا تھا بلکہ اجازت دی تھی کہ وہ اپنے اپنے دین پر قائم رہیں۔آج بھی امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب دشمن کے لیے بھی عدل کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں۔اور ایسا صرف مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جنگوں میں ہی نہیں بلکہ دیگر تمام جنگوں میں بھی کیا جانا چاہیے۔اسی طرح جو امن حاصل ہوگا درحقیقت وہی پائیدار امن ہوسکتا ہے۔گزشتہ صدی میں دو عالمی جنگیں لڑی گئی ہیں۔اُن کی جو بھی وجو ہات تھیں اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک ہی وجہ سب سے نمایاں دکھائی دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ عدل کو صحیح رنگ میں قائم نہیں کیا گیا تھا۔اور پھر وہ آگ جو بظاہر بجھی ہوئی معلوم ہوتی تھی دراصل سلگتے ہوئے انگارے تھے جن سے بالآخر وہ شعلے بلند ہوئے جنہوں نے دوسری مرتبہ ساری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔آج بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔وہ جنگیں اور دیگر اقدامات جو امن کو قائم کرنے کی خاطر کیے جار ہے ہیں ایک اور عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن رہے ہیں۔موجودہ اقتصادی اور سماجی مسائل اس صورتحال میں اور بھی زیادہ ابتری کا باعث بن رہے ہیں۔قرآن کریم نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بعض سنہری اُصول عطا فرمائے ہیں۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ہوس سے دشمنی بڑھتی ہے۔کبھی یہ ہوس توسیع پسندانہ عزائم سے ظاہر ہوتی ہے۔کبھی اس کا اظہار قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے سے ہوتا ہے اور کبھی یہ ہوس اپنی برتری دوسروں پر ٹھونسنے کی شکل میں نظر آتی ہے۔یہی لالچ اور ہوس ہے جو بالآخر ظلم کی طرف لے جاتا ہے۔خواہ یہ بے رحم جابر حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہو جو اپنے مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کے حقوق غصب کر کے اپنی برتری ثابت کرنا چاہتے ہوں یا جارحیت کرنے والی افواج کے ہاتھوں سے ہو۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مظلوموں کی چیخ و پکار کے نتیجہ میں بیرونی دنیا مدد کے لیے آجاتی ہے۔بہر حال اس کا 15