عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 123 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 123

اسلام۔امن اور محبت کا مذہب 123 مشتمل اپنے پیغام کو براہ راست اسلام سے منسوب کرتی ہے۔ان کی اس حیرت کا سبب یہ ہے کہ دیگر متعدد نام نہاد مسلمان تنظیمیں اور علما یکسر مختلف خیالات اور رویہ رکھتے ہیں اور کلی مختلف پیغام دے رہے ہیں۔اس فرق کو واضح کرنے کے لیے میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم احمدی مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اس زمانہ میں تلوار کے ذریعہ جہاد کا تصور کلیۂ غلط اور قابل تردید ہے جبکہ دیگر مسلمان علماء نہ صرف اس کی ترویج کرتے بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہیں۔ان کے انہی عقاید کی وجہ سے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی کئی ایک شدت پسند تنظیمیں اُبھر کر سامنے آئی ہیں۔مختلف گروہ ہی نہیں انفرادی طور پر بھی ایسے لوگ سامنے آرہے ہیں جو ان غلط عقاید پر عمل پیرا ہو کر اپنا مفاد حاصل کر رہے ہیں۔اس کی ایک تازہ مثال ایک معصوم برطانوی فوجی کا لندن کی گلیوں میں بہیمانہ قتل ہے۔اس حملہ کا حقیقی اسلامی تعلیمات سے دُور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔اس کے برعکس اسلام ایسے افعال کی شدید مذمت کرتا ہے۔اس طرح کے گھناؤنے منصوبے حقیقی اسلامی تعلیمات اور غلط معانی اخذ کر کے اُس کی غلط تشریحات کرنے والوں کے مابین فرق واضح کر دیتے ہیں جن پر بعض نام نہاد مسلمان اپنے مذموم مقاصد کی خاطر عمل پیرا ہیں۔میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض مقامی گروہوں کا ردعمل بھی درست نہیں کیونکہ اس قسم کے رد عمل سے معاشرہ کا امن تباہ ہو سکتا ہے۔اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اسلامی تعلیمات کے بارہ میں ہمارا عقیدہ ہی درست ہے؟ قابلِ غور بنیادی نقطہ یہ ہے کہ تلوار یا طاقت کے استعمال کی اجازت محض اُس وقت ہے جب اسلام پر مذہبی جنگ مسلط کی جائے۔آج کی دنیا میں کوئی بھی ملک یا مذ ہب ایسا نہیں ہے جو خالصہ مذہب کو بنیاد بنا کر اسلام کے خلاف اعلان جنگ کر رہا ہو۔پس مسلمانوں کے لیے کسی طور پر بھی جائز نہیں کہ وہ مذہب کے نام پر کسی دوسرے پر حملہ کر دیں کیونکہ یہ قرآنی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔قرآن کریم نے صرف ان لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دی ہے جنہوں نے اسلام کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا اور تلوار اٹھانے میں پہل کی تھی۔ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شہری اپنے ملک یا اپنے ہم وطن دیگر شہریوں کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے منافی عمل پیرا ہے۔