عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 122

122 22 میں ہوئی ہو یا کسی اور ملک سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوا ہو مکمل طور پر اس ملک کا وفادار ہے اور اس سے سچی محبت رکھتا ہے اور اس قوم کی ترقی اور کامیابی کا خواہاں ہے۔برطانیہ میں دیگر اقوام کے لوگ بہت بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ایک اندازہ کے مطابق وہ اس ملک کی کل آبادی کا قریباً چودہ یا پندرہ فیصد ہیں۔چنانچہ میں برطانوی مقامی افراد کی اعلیٰ صفات مثلاً فراخ دلی اور قوت برداشت کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا اور اس کا ذکر کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا کہ کس طرح انہوں نے دیگر ممالک سے تارکین وطن کو اپنے ملک کے افراد کے طور پر قبول کیا اور انہیں برطانوی معاشرہ کا حصہ بننے کا موقع دیا۔اس اعتبار سے وہ لوگ جو یہاں رہائش اختیار کرنے کے لیے آئے ان کا بھی اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ خود کو اس ملک کا وفادار شہری ثابت کریں۔لہذا انہیں ہر طرح کی بدامنی اور فساد کا قلع قمع کرنے میں حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرنا چاہیے۔جہاں تک احباب جماعت احمدیہ مسلمہ کا تعلق ہے تو وہ جس ملک میں بھی رہائش پذیر ہیں اللہ کے فضل سے اِس اُصول پر سختی سے کاربند ہیں۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم اس وقت برطانیہ میں جماعت احمدیہ مسلمہ کی صد سالہ تقریبات منار ہے ہیں۔پچھلے سو سال اس بات کا بین ثبوت اور گواہ ہیں کہ احباب جماعت احمد یہ مسلمہ نے اپنے ملک سے وفاداری کے تقاضوں کو ہمیشہ پورا کیا ہے اور ہمیشہ کسی بھی قسم کی انتہا پسندی، بغاوت اور فساد سے بالکل الگ رہے ہیں۔دراصل اس وفاداری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جماعت احمد یہ ایک حقیقی مسلمان جماعت ہے۔ہماری جماعت ایک ممتاز حیثیت کی حامل جماعت ہے کیونکہ ہم نے دُنیا کو ہمیشہ تسلسل کے ساتھ حقیقی اور امن پسند اسلامی تعلیمات سے روشناس کروایا ہے اور ہمیشہ سے ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ ان بچی تعلیمات کو ہی حقیقی اسلام کے طور پر قبول کیا جائے۔اس مختصر تمہید کے بعد اب میں اپنے خطاب کے بنیادی موضوع کی طرف آتا ہوں۔ہماری جماعت امن، بھائی چارہ اور ہم آہنگی کی علم بردار ہے۔ہمارا ایمان ” محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں ہے۔بعض غیر مسلم جن سے ہمارے قریبی مراسم ہیں وہ بہت حیران ہوتے ہیں کہ جماعت احمدیہ مسلمہ امن اور بھائی چارہ پر