عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 49
ایٹمی جنگ کے تباہ کن نتائج اور کامل انصاف کی اشد ضرورت 49 قدم اُٹھالیتے ہیں۔ابھی حال ہی میں ہم نے افغانستان میں دو ایسے واقعات کے بارہ میں سنا جہاں کچھ امریکی فوجیوں نے قرآن کریم کی ہتک کی اور معصوم عورتوں اور بچوں کو ان کے گھروں میں ماردیا۔اسی طرح جنوبی فرانس میں ایک بے رحم انسان نے ایک فرانسیسی فوجی کو بغیر کسی وجہ سے گولی مار کر ہلاک کر دیا اور اس کے چند روز کے بعد وہ شخص ایک سکول میں داخل ہوا اور وہاں تین معصوم یہودی بچوں اور ان کے ایک استاد کو مار ڈالا۔ایسا رویہ بالکل غلط ہے اور اس سے کبھی بھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔اس قسم کے مظالم آئے دن پاکستان اور دوسری جگہوں پر ہوتے رہتے ہیں اور اس طرح کے اقدامات سے اسلام دشمن عناصر کو اسلام کے خلاف اپنی نفرت کے اظہار اور بڑے پیمانہ پر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بہانہ مل جاتا ہے۔بربریت کے ایسے اظہار جو چھوٹے پیمانہ پر کیے جاتے ہیں یہ کسی ذاتی عناد یا کدورت کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ در حقیقت اس کی وجہ بعض حکومتوں کی نہ صرف داخلی بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنائی گئی غیر منصفانہ پالیسیاں ہوتی ہیں۔پس دُنیا میں قیام امن کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر سطح پر اور دنیا کے ہر ملک میں انصاف کے درست معیار قائم کیے جائیں۔قرآن کریم نے ایک معصوم جان کے قتل کو تمام انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔پس ایک مرتبہ پھر مسلمان ہونے کے ناطہ میں یہ بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسلام کسی بھی نوع، شکل یا طریق سے کیے جانے والے ظلم اور زیادتی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔اسلام کا یہ حکم بالکل قطعی ہے اور اس میں کوئی استثناء نہیں۔قرآن کریم اس بارہ میں مزید فرماتا ہے کہ کوئی ملک یا قوم جو تم سے برسر پیکار ہے ان سے بھی معاملہ کرتے وقت مکمل انصاف اور عدل کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھو۔ایسا نہ ہو کہ ان میں دشمنی اور رقابت کی وجہ سے ان سے بدلہ لینے کے لیے آپ بے اعتدالیوں کی طرف چلے جائیں۔ایک اور بہت اہم ہدایت جو قرآن کریم نے ہمیں دی ہے یہ ہے کہ دوسروں کی دولت اور وسائل کی طرف حسد اور للچائی ہوئی نظروں سے مت دیکھو۔میں نے صرف چند ایک اصول آپ کے سامنے پیش کیے ہیں لیکن یہ بہت ہی اہم ہیں کیونکہ یہ معاشرہ میں اور باقی دنیا میں امن اور انصاف کے قیام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔میری دُعا ہے کہ دنیا ان اہم معاملات کی طرف توجہ دے تا کہ ہم اس تباہی سے بچ جائیں جس تباہی کی طرف ظالم اور جھوٹے لوگ ہمیں لے جارہے ہیں۔میں معذرت چاہتا ہوں کہ میں نے کافی وقت لے لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں قیام امن کا