عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 50 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 50

50 موضوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔وقت ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اور قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے ہم سب کو وقت کی ضرورت کے تحت اس بات کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اپنی تقریر ختم کرنے سے پہلے میں ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل ملکہ الزبتھ دوم کی ڈائمنڈ جوبلی منائی جا رہی ہے اگر ہم ایک سو پندرہ سال پیچھے 1897ء میں جائیں تو اس وقت ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی منائی جارہی تھی۔اس وقت بانی جماعت احمدیہ مسلمہ نے ملکہ وکٹوریہ کو مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا۔اپنے اس پیغام میں آپ نے ملکہ کو اسلام کا پیغام پہنچایا اور آپ نے حکومت برطانیہ کے لیے اور ملکہ کی درازی عمر کے لیے دعا بھی کی تھی اپنے پیغام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا کہ ملکہ کی حکومت کی ایک بہترین خوبی یہ تھی اس کے دور حکومت میں تمام لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل تھی۔آج حکومت برطانیہ برصغیر پر حکومت نہیں کر رہی لیکن مذہبی آزادی کے اصول برطانوی معاشرہ اور ملکی قوانین کا حصہ بن چکے ہیں جس کی وجہ سے ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔اس آزادی کی بہترین مثال آج کی یہ مجلس ہے جہاں مختلف مذاہب، عقاید اور نظریات کے ماننے والے ایک جگہ پر دنیا میں قیام امن کی ایک جیسی خواہش لیے ہوئے اکٹھے ہیں۔جن الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُس وقت ملکہ کو دُعا دی تھی۔انہی الفاظ میں میں ملکہ الر بتھ کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو ہماری طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارکباد پہنچے۔خدا ملکہ معظمہ کو ہمیشہ خوشی سے رکھے۔“ حضرت مسیح موعود نے ملکہ معظمہ کو مزید دعاؤں کا تحفہ پیش کیا اس لیے میں بھی آپ ہی کے الفاظ میں ملکہ الزبتھ کو دعا دیتا ہوں۔”اے قادر وکریم ! اپنے فضل و کرم سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ جیسا کہ ہم اس کے سایہ عاطفت کے نیچے خوش ہیں اور اس سے نیکی کر جیسا کہ ہم اس کی نیکیوں اور احسانوں کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔“