عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 48

お میں یہ بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حقیقت میں یہ شرانگیزیاں اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں اور قرآن کریم کسی بھی طرح کے حالات میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ہمارا ایمان ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع میں مسیح موعود اور امام مہدی بنا کر مبعوث کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام اور قرآن کریم کی کچی تعلیمات کے دُنیا میں پھیلانے کے لیے ہی مبعوث ہوئے تھے۔آپ بندہ اور خدا تعالیٰ کے مابین تعلق کو قائم کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔آپ کی بعثت کی غرض یہ ہے کہ تا انسان ایک دوسرے کے حقوق کو پہچانے ، آپ اس لیے بھیجے گئے تا ہر طرح کی مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو۔آپ اس لیے بھیجے گئے کہ تا تمام بانیان مذاہب اور انبیاء کی عزت و احترام قائم کی جائے۔آپ دنیا کی توجہ اعلیٰ اخلاق اور اقدار کے حصول اور تمام دنیا میں امن، محبت، ہمدردی اور بھائی چارہ کے قیام کے لیے مبعوث ہوئے۔آپ دنیا کے کسی حصہ میں چلے جائیں آپ تمام بچے احمدیوں کو ان خصوصیات سے مُرقع پائیں گے۔ہمارے لیے نہ تو دہشت گرد اور نہ ہی انتہا پسند نمونہ ہیں اور نہ ظالم حکمران اور نہ ہی مغربی حکومتیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ہم دل و جان سے جس نمونہ کی تقلید کرتے ہیں وہ بانی اسلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہے اور ہمارا لائحہ عمل قرآن کریم ہے۔لہذا اس امن کا نفرنس کے ذریعہ میں تمام دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسلام کی تعلیمات اور پیغام محبت، ہمدردی ، نرمی اور امن و آشتی کے سوا کچھ نہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک انتہائی قلیل تعداد اسلام کی ایک بالکل بگڑی ہوئی تصویر پیش کرتی ہے اور اپنے گمراہ کن عقاید کے مطابق عمل پیرا بھی ہوتی ہے میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ ان کے پیش کردہ اسلام کو حقیقی اسلام نہ سمجھا جائے اور ان کے غلط کاموں کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کی امن پسند ا کثریت کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے یا انہیں ظلم کا نشانہ نہ بنایا جائے۔قرآن کریم تمام مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس اور سب سے زیادہ قابل تعظیم کتاب ہے۔لہذا اس کی توہین کرنا اور قابل اعتراض زبان استعمال کرنا یا اسے جلا دینا یقیناً ایسے اقدام ہیں جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے اقدام کے رد عمل میں انتہا پسند مسلمان اکثر بالکل غلط اور نامناسب