عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 45
ایٹمی جنگ کے تباہ کن نتائج اور کامل انصاف کی اشد ضرورت ہے کہ اس میں چار کروڑ افراد عام شہری تھے۔اس طرح بالفاظ دیگر فوجیوں سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے۔باوجود اس کے کہ جاپان کے علاوہ باقی ہر جگہ پر روایتی ہتھیاروں سے جنگ لڑی گئی پھر بھی اتنی شدید تباہی ہوئی۔برطانیہ میں پانچ لاکھ لوگ لقمہ اجل بنے۔اس وقت برطانیہ کی حکومت نو آبادیاتی طاقت تھی اور اس کی کالونیاں اور وہ ممالک جو برطانیہ کی طرف سے لڑ رہے تھے اگر ان اموات کو بھی شامل کیا جائے تو پھر یہ تعداد کروڑوں میں جا پہنچتی ہے۔صرف انڈیا میں ہی سولہ لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔تاہم اب حالات بدل چکے ہیں وہ ممالک جو بھی حکومت برطانیہ کی کالونیاں تھے اور جنہوں نے برطانیہ کی طرف سے جنگ میں حصہ لیا۔جنگ کی صورت میں اب شاید وہ برطانیہ کے ہی خلاف جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔مزید یہ کہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اب تو بعض چھوٹے ممالک نے بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔فکر کی بات یہ ہے کہ یہ ایٹمی ہتھیار ایسے لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں جن کے پاس اتنی قابلیت ہی نہیں ہے یا جو اپنے اعمال کے نتائج کا ادراک نہیں کرنا چاہتے۔حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ عواقب سے بالکل بے پروا اور جنگی جنون میں مبتلا ہیں۔پس اگر بڑی طاقتوں نے انصاف سے کام نہ لیا اور چھوٹے ملکوں کے احساس محرومی کو ختم نہ کیا اور عمدہ حکمت عملی نہ اپنائی تو حالات بالآخر ہاتھ سے نکل جائیں گے اور پھر جو تباہی اور بربادی ہوگی وہ ہماری سوچ اور تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی بلکہ دنیا کی اکثریت جو امن کی خواہاں ہے وہ بھی اس تباہی کی لپیٹ میں آجائے گی۔پس میری دلی خواہش اور تمنا یہ ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کے راہنما اس خوفناک حقیقت کو سمجھ جائیں اور جارحانہ حکمت عملی اپنانے اور اپنے عزائم اور مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کے استعمال کی بجائے ایسی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کریں جن سے انصاف کو فروغ دیا جائے اور اسے یقینی بنایا جائے۔حال ہی میں روس کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے ایک بیان میں ایٹمی جنگ کے سنگین خطرہ کی طرف نشاندہی کی ہے۔ان کا خیال تھا کہ یہ جنگ ایشیا یا کہیں اور نہیں لڑی جائے گی بلکہ یورپ کی سرحدوں پر لڑی جائے گی اور یہ کہ اس کے شعلے مشرقی یورپین ممالک سے بلند ہونے کا خدشہ ہے۔اگر چہ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے لیکن میں ان کے خیالات کو خارج از امکان نہیں سمجھتا بلکہ میرا تو خیال ہے کہ اگر ایسی جنگ چھڑ گئی تو غالب امکان ہے کہ ایشیائی ممالک بھی اس میں شامل ہو جائیں گے۔45