عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 44
44 جائیں گے اور ان کی آئندہ نسلیں بھی بہت بڑے خطرات میں گھر جائیں گی۔لہذا جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ اس قسم کی جنگ کے ہولناک اور تباہ کن اثرات صرف اس جنگ تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ نسلاً بعد نسل چلیں گے۔ایسی جنگوں کے ان نتائج کے باوجود آج بھی ایسے خود غرض اور بے وقوف لوگ موجود ہیں جو اپنی اس ایجاد پر فخر کرتے ہوئے انہیں دنیا کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی توانائی اور ٹیکنالوجی کے برائے نام مفید پہلو انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں اور غفلت کے باعث یا حادثات کی صورت میں یہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ہم ایسی تبدیلیاں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں جیسا کہ چرنوبل، موجودہ یوکرائن، میں 1986ء میں ایسا ایٹمی حادثہ ہو چکا ہے اور ابھی پچھلے سال ہی جاپان میں زلزلہ اور سونامی کے نتیجہ میں اسے بھی اس قسم کے خطرہ کا سامنا تھا اور تمام ملک ہراساں تھا۔جب اس طرح کے حادثات ہوتے ہیں تو متاثرہ علاقوں کو دوبارہ آباد کرنا بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ان کے منفرد اور المناک حادثہ کی وجہ سے جو انہیں سہنا پڑا، جاپانی بہت ہی محتاط ہو چکے ہیں اور اپنے اس خوف و ہراس میں بالکل حق بجانب ہیں۔یہ تو سب کو معلوم ہے کہ جنگیں ہلاکت کا پیغام لاتی ہیں جب جاپان نے دوسری جنگ عظیم میں شمولیت اختیار کی تو اس کی حکومت اور لوگ بخوبی جانتے تھے کہ کچھ لوگ تو بہر حال موت کا شکار ہو جائیں گے۔بتایا جاتا ہے کہ جاپان میں قریباً30لاکھ افراد نے جان سے ہاتھ دھوئے اور یہ لکی آبادی کا 4 فیصد بنتا ہے۔باوجود اس کے کہ کل اموات کے تناسب سے کئی دوسرے ممالک میں زیادہ اموات واقع ہوئی ہوں گی پھر بھی جاپانی قوم میں جنگ سے نفرت اور کراہت دوسرے ممالک کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔اس کی واضح وجہ دو ایٹم بم ہیں جو دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر گرائے گئے اور جس کے بداثرات کا وہ آج تک شکار ہیں۔جاپانی قوم نے اپنی عظمت اور دوبارہ ابھرنے کی طاقت کا ثبوت اپنے شہروں کو بڑی تیزی سے از سر نو آباد کر کے دیا ہے لیکن یہ واضح رہے کہ اگر ایٹمی ہتھیار آج دوبارہ استعمال ہوتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ بعض ممالک کے کچھ حصے مکمل طور پر دنیا کے نقشہ سے مٹ جائیں اور ان کا نام ونشان بھی باقی نہ رہے۔محتاط اندازوں کے مطابق جنگ عظیم دوم میں چھ کروڑ سے زائد افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور کہا جاتا