عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 43

ایٹمی جنگ کے تباہ کن نتائج اور کامل انصاف کی اشد ضرورت ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب انسانی کوششیں بے کار ہو جاتی ہیں اس وقت خدا تعالیٰ اپنی تقدیر جاری کر کے بنی نوع انسان کی تقدیر کا فیصلہ کر دیتا ہے۔قبل اس کے کہ خدا کی تقدیر حرکت میں آئے اور انسان حکم خدا کے ہاتھوں مجبور ہو کر لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہو۔بہتر ہوگا کہ دنیا کے لوگ خود ان اہم باتوں کی طرف توجہ کر لیں کیونکہ جب خدا تعالی پکڑنے پر آتا ہے تو اس کا قہر بنی نوع انسان کو انتہائی خوفناک اور بھیا تک انداز میں پکڑتا ہے۔آج کے دور میں خدا کی ایک قہری تجلی ایک اور عالمی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسی جنگ کے بداثرات اور تباہی صرف ایک روایتی جنگ یا صرف موجودہ نسل تک ہی محدود نہیں رہیں گے۔در حقیقت اس کے ہولناک نتائج آئندہ کئی نسلوں تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ایسی جنگ کا المناک نتیجہ تو ان نومولود بچوں کو بھگتنا پڑے گا جواب یا آئندہ پیدا ہوں گے۔جو ہتھیار آج موجود ہیں وہ اس قدر تباہ کن ہیں کہ ان کے نتیجہ میں نسلاً بعد نسل بچوں کے جینیاتی یا جسمانی طور پر معذور پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔جاپان وہ واحد ملک ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران ایٹمی حملہ والے ہولناک تجربہ سے گزرا ہے۔آج بھی اگر آپ جاپان جائیں اور وہاں کے لوگوں سے ملیں تو آپ دیکھیں گے کہ جنگ کے بارہ میں ان کی آنکھوں اور ان کی باتوں سے شدید خوف اور نفرت جھلکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت استعمال کیے گئے ایٹمی ہتھیار جنہوں نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی آج بہت چھوٹے ملکوں کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں سے بھی بہت کم طاقت کے حامل تھے۔کہا جاتا ہے کہ جاپان میں سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی بعض نوزائیدہ بچوں میں ایٹم بم کے بداثرات اب بھی ظاہر ہو جاتے ہیں۔اگر کسی شخص کو گولی مار دی جائے تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ طبی امداد مہیا ہونے پر اس کی جان بچائی جاسکے لیکن اگر ایٹمی جنگ چھڑ جاتی ہے تو جولوگ براہ راست اس کی زد میں آئیں گے اُن کے بچنے کا کوئی امکان نہیں۔لوگ آنا فانا ہلاک ہو جائیں گے یا مجسموں کی صورت میں منجمد ہو جائیں گے اور اُن کی جلد پانی کی طرح بہ جائے گی۔پینے کا پانی، غذا اور سبزہ وغیرہ ایٹمی تابکاری سے نا قابل استعمال ہو جائیں گے۔اس تابکاری کے اثرات سے جو بیماریاں پیدا ہوں گی ہم ان کا صرف تصور کر سکتے ہیں۔ان مقامات پر جہاں براہ راست حملہ نہیں ہوگا اور جہاں تابکاری کے اثرات کم ہوں گے وہاں بھی بیماریوں کے امکانات بہت بڑھ 43