عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 217
عالمی راہنماؤں کو خطوط 217 بجائے باہم متحد ہونے کی کوشش کرتے۔الغرض آج عالمی افراتفری کا ایک بہت بڑا اور بھاری سبب عدل وانصاف کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ہر طرف بے چینی اور بے اطمینانی کا دور دورہ ہے۔میری آپ سے استدعا ہے کہ آپ عالمگیر جنگ کو روکنے کے لیے بھر پور جدو جہد کریں اور اپنی تمام تر طاقت، وسائل اور اثر ورسوخ بروئے کار لا کر دنیا کو در پیش خوف ناک تباہی اور بربادی سے بچائیں۔اطلاعات کے مطابق جرمنی ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کی حامل تین جدید آب دوزیں اسرائیل کو فراہم کرنے والا ہے۔ایک جرمن پروفیسر نے اس پر کہا ہے کہ یہ فیصلہ ایران اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے گا۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج دنیا کی بڑی طاقتیں ہی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس نہیں بلکہ بعض نسبتا چھوٹے ممالک بھی یہ صلاحیت حاصل کر چکے ہیں اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان چھوٹے ممالک میں سے بعض کے حکمران فور الڑائی پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ ان ہتھیاروں کے استعمال کے عواقب سے لا پروا بھی ہیں۔لہذا میں ایک بار پھر آپ سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ پورے اخلاص کے ساتھ اپنی تمام تر سعی بروئے کار لا کر امنِ عالم کو یقینی بنائیں۔اگر آج ہم قیامِ امن میں ناکام ٹھہرے تو یہ بات یقینی ہے کہ یہ ایٹمی جنگ ایسی تباہی لائے گی کہ نسلاً بعد نسل اپانی اولادیں دنیا کا مقدر ہوں گی اور آئندہ آنے والی وہ تمام نسلیں ان عالمی سربراہوں کو ہرگز معاف نہیں کریں گی جنہوں نے دنیا کو جان بوجھ کر عالمگیر تباہی کی آگ میں دھکیل دیا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور دیگر عالمی سربراہان کو یہ پیغام سمجھنے کی توفیق بخشے۔نیک تمناؤں کے ساتھ ! آپ کا خیر خواہ مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر 15-04-2012