عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 216

216 عبادات کے احترام کی ضرورت ہے۔متعدد مغربی ممالک کی طرف سے غریب اور ترقی پذیر اقوام کے افراد جن میں مسلمان بھی شامل ہیں، کو اپنے ہاں بسنے کی اجازت دینے کے فراخ دلانہ فیصلہ کوئیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نام نہاد مسلمانوں کی ایک قلیل تعداد ایسی بھی ہے جن کے اعمال کلیہ نامناسب ہیں اور یہ لوگ مغربی اقوام کے دلوں میں شک کا بیج بورہے ہیں۔تا ہم واضح ہو کہ ان لوگوں کے افعال کا اسلام سے ڈور کا بھی تعلق نہیں۔یہ شدت پسند لوگ بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے جو دنیا کے لیے امن محبت اور رواداری کا پیغام لے کر آئے تھے ، ہر گز سچی محبت نہیں رکھتے۔یقینا مٹھی بھر بھٹکے ہوئے لوگوں کی کارروائیوں کو بنیاد بنا کر ہمارے مذہب کو اعتراض کا نشانہ بنانا نیز مخلص اور معصوم مسلم اکثریت کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہر گز درست نہیں۔کسی بھی معاشرہ میں امن کے قیام کے لیے کوششیں ہمیشہ دوطرفہ ہوا کرتی ہیں اور کامیابی تبھی ممکن ہوا کرتی ہے جب تمام فریق باہمی موافقت کے حصول کے لیے مل کر کوشش کریں۔اہل مغرب کے دل میں پائی جانے والی بد اعتمادی ہی ہے جو افراد اور اقوام کے درمیان حائل خلیج کو پاٹنے میں مد ہونے کی بجائے برعکس نتائج پیدا کر رہی ہے۔بعض غیر مسلموں کا رد عمل دن بہ دن منفی ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مسلم اور غیر مسلم دنیا کے درمیان ایک خلیج بڑھتی چلی جارہی ہے۔چند بھٹکے ہوئے مسلم افراد اور اقوام کی کارروائیوں کی وجہ سے چند بڑی طاقتیں دیانت اور انصاف کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل پر کمر بستہ ہیں۔دنیا کی طاقت ورا قوام میں سے بعض کی یہ خواہش ہے کہ وہ کسی طرح چند مخصوص ممالک کی دولت اور وسائل پر اپنی دسترس قائم رکھیں اور دیگر ممالک کو ان وسائل تک رسائی نہ ہو سکے۔یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اپنے غیر منصفانہ فیصلوں میں عوام کی مدد یا امن عالم کے قیام کا تصور پیش کرتے ہیں۔مزید برآں موجودہ سیاسی صورت حال کے پس منظر میں ایک بڑا بھاری عصر عالمی معاشی انحطاط بھی ہے جو ہمیں ایک اور عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔اگر واقعۂ صدق دل سے کام لیا جار ہا تھا تو چاہیے تھا کہ یہ ممالک انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ایک دوسرے کو فائدہ اُٹھانے دیتے اور حسن معاملہ کے ساتھ با قاعدہ باہمی صنعتی اور معاشی روابطہ قائم کرتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ایک دوسرے کے وسائل سے ناجائز طور پر فائدہ اُٹھانے کی