عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 215
عالمی راہنماؤں کو خطوط محترمہ انجیلا مرکل صاحبه! بسم اللہ الرحمن الرحیم Bundeskanzleramt Willy-Brand-Str۔1 10557 Berlin 215 جرمنی۔محترمه چانسلر صاحبہ! آج دنیا بھر میں پیدا شدہ خطرناک حالات اور انتہائی تشویش کو دیکھتے ہوئے میں آپ کو یہ خط تحریر کر رہا ہوں۔عالمی اثر ورسوخ کے حامل ملک جرمنی کی چانسلر ہونے کی حیثیت سے آپ کو ان فیصلوں کا اختیار حاصل ہے جو نہ صرف آپ کے اپنے ملک پر بلکہ تمام دنیا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔آج دنیا مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو رہی ہے، شدت پسندی اپنے عروج پر ہے اور معاشی، سیاسی اور اقتصادی صورتِ حال دگر گوں ہے۔اس پس منظر میں فوری طور پر ہر ایک نوع کی نفرت کو ختم کر کے امن کی بنیا در کھنے کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے۔یہ مقصد صرف اور صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ جب ہر ایک کے جذبات کا احترام کیا جائے لیکن چونکہ باہمی احترام کے لیے مناسب مکمل دیانت اور نیکی کے جذبہ سے توجہ نہیں کی جارہی اس لیے دُنیا کے حالات تیزی کے ساتھ قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اکثر اقوام انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر رہیں۔نتیجہ ایک اور عالمگیر جنگ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔متعدد چھوٹی بڑی اقوام ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔اب اگر عالمی جنگ شروع ہوتی ہے تو امکان ہے کہ وہ روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایٹمی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی اور نیو کلیئر ہتھیاروں سے لڑی جانے والی جنگ کا نتیجہ سرا سر تباہی و بربادی ہی ہو گا جس کے اثرات صرف اسی وقت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو بہت دیر تک اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور آئندہ کئی نسلیں خطرناک طبی اور جینیاتی مسائل کے ساتھ جنم لیں گی۔پس میرا ایمان ہے کہ عالمی امن کے قیام کے لیے حقیقی انصاف کی فراہمی اور تمام اقوام کے جذبات اور مذہبی