عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 208 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 208

208 دہانہ پر پہنچی ہوئی دنیا کو بچانے کے لیے کوئی حل تلاش کریں۔زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ دنیا کے چھوٹے ممالک کے ایٹمی ہتھیار کہیں ایسے جلد باز لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں جو فوڑ ا ہتھیار اٹھانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔جن کے پاس نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی اپنے اعمال کے بد نتائج کی فکر ! اگر بڑی عالمی طاقتوں نے عدل سے کام نہ لیا اور چھوٹی قوموں کی محرومیاں ختم نہ کیں اور دنیا کے وسیع تر مفاد میں پر حکمت پالیسیاں اختیار نہ کیں تو حالات تدریجاً قابو سے باہر ہوتے جائیں گے اور ہمارے اندازوں سے بھی زیادہ تباہی ہوگی۔دُنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ جو امن کا خواہاں ہے وہ بھی اس بربادی کی لپیٹ میں آجائے گا۔پس میری دلی خواہش اور دُعا ہے کہ آپ اور تمام بڑی عالمی طاقتوں کے سربراہان اس خطرناک حقیقت کا ادراک کریں اور جارحانہ پالیسیاں اپنانے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے ایسی پالیسیوں پر عمل کریں جودُ نیا میں انصاف کو یقینی بنانے والی ہوں۔ماضی قریب کے سرسری مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ نے متعدد ممالک پر حکومت کی اور عدل و انصاف اور مذہبی آزادی فراہم کرنے میں خصوصاً برصغیر پاک و ہند میں اعلیٰ معیار قائم کیے۔چنانچہ جب بانی جماعت احمدیہ نے اپنے زمانہ میں ملکہ وکٹوریہ کو ڈائمنڈ جوبلی پر مبارکباد پیش کی اور انہیں اسلام کا پیغام پہنچایا تو آپ نے عدل و انصاف اور مساوات کے ساتھ حکومت کرنے پر برطانوی حکومت کو دُعاؤں سے بھی نوازا کہ اللہ تعالیٰ حکومت برطانیہ کو اجر عظیم عطا فرمائے اور آپ نے برطانوی حکومت کی انصاف پسند پالیسیوں اور مذہبی آزادی کی فراہمی پر غیر معمولی تعریف بھی کی تھی۔آج حکومت برطانیہ برصغیر پر حاکم تو نہیں ہے لیکن مذہبی آزادی کے اصول برطانوی معاشرہ اور دستور میں اچھی طرح راسخ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے یہاں ہر شہری کو مذہبی آزادی اور مساوی حقوق میسر ہیں۔امسال برطانیہ میں ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی ڈائمنڈ جوبلی کے پر مسرت موقع پر تقریب کا اہتمام کیا جارہا ہے۔یہ بہت ہی نادر موقع ہے کہ برطانیہ اپنے انصاف اور دیانت داری کے اعلیٰ معیار دنیا کو بھی دکھائے۔جماعت احمدیہ مسلمہ کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی برطانیہ نے انصاف پسندی کا مظاہرہ کیا ہے ہم نے اسے