عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 192
192 امام مہدی علیہ السلام کے خلیفہ کی حیثیت سے میری آپ سے درخواست ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ اور اسلام کے باقی فرقوں کے درمیان بعض اعتقادی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیں دنیا میں قیام امن کی کوششوں کے لیے متحد ہو جانا چاہیے۔ہمیں دنیا کو اسلام کی سچی تعلیم جو محبت اور امن پر بنی ہے سے آگاہ کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔ایسا کر کے ہم وہ غلط فہمیاں جو عام طور پر اہل مغرب اور باقی دنیا کے ذہنوں میں اسلام کے خلاف راسخ ہو چکی ہیں دُور کر سکتے ہیں۔دوسری قوموں یا لوگوں سے دشمنی ہمیں انصاف پر عمل پیرا ہونے سے روکنے والی نہ ہو۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں سورۃ المائدہ آیت 3 میں فرماتا ہے۔اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کرو اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرو۔یقیناً اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔“ یہ وہ راہنما اُصول ہے جو ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے تا کہ ہم اسلام کا خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہوسکیں۔تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے دلی محبت اور گہری ہمدردی کے جذبات کے ساتھ میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کہ آپ اس معاملہ میں اپنا کردار ادا کریں۔آج کل دنیا میں کچھ سیاست دان اور نام نہاد سکالر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بدنام کرنے کے لیے اسلام کے خلاف نفرت کے بیج بورہے ہیں۔اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے وہ قرآن کریم کی تعلیمات کو بالکل ہی توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔مزید یہ کہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین تنازعہ گزرتے ہوئے ہر دن کے ساتھ بگڑ رہا ہے اور اسرائیل اور ایران کے درمیان عداوت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ان کے تعلقات بری طرح خراب ہو چکے ہیں۔ان حالات کا تقاضا ہے کہ اُمت مسلمہ کا انتہائی اہم راہنما ہونے کے ناطہ آپ ان تنازعات کو انصاف اور عدل سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔جہاں بھی اور جب بھی اسلام کے خلاف نفرت سر اٹھاتی ہے جماعت احمدیہ مسلمہ اس نفرت کو دور کرنے کے لیے جو کچھ کر سکتی ہے کرتی ہے لیکن جب تک تمام امت مسلمہ متحد نہ ہو جائے اور اس کے حصول کی کوشش نہ کرے امن قائم نہیں ہو سکتا۔