عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 184

184 میں رونما ہونے والا معاشی بحران سر فہرست تھا۔آج دنیا کے چوٹی کے ماہرین معاشیات برملا کہہ رہے ہیں کہ موجودہ دور کے معاشی مسائل اور 1932ء والے بحران میں بہت سی قدریں مشترک دکھائی دے رہی ہیں۔سیاسی اور اقتصادی مسائل نے کئی چھوٹے ممالک کو ایک بار پھر جنگ پر مجبور کر دیا ہے اور بعض ممالک داخلی بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ان تمام امور کا منطقی نتیجہ ایک عالمی جنگ کی صورت میں ہی نکلے گا۔اگر چھوٹے ممالک کے جھگڑے سیاسی طریق اور سفارت کاری کے ذریعہ حل نہ کیے گئے تو لازم ہے کہ دنیا میں نئے جتھے اور بلاک جنم لیں گے اور یقینا یہ امر تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ہو گا۔ایسی صورت حال میں دنیا کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے زیادہ ضروری بلکہ ناگزیر ہے کہ ہم دنیا کو اس عظیم تباہی سے بچانے کی کوشش کریں۔آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ بنی نوع انسان خدائے واحد کو پہچانے جو سب کا خالق ہے۔انسانیت کی بقا کی یہی ایک ضمانت ہے ورنہ دنیا تیزی سے اپنی تباہی کے سامان کر رہی ہے۔دُنیا میں بہت سارے لوگ کینیڈا کو انتہائی انصاف پسند ملکوں میں سے ایک گردانتے ہیں۔آپ کی قوم عام طور پر دوسرے ممالک کے اندرونی مسائل میں دخل اندازی نہیں کرتی۔مزید برآں ہماری جماعت، جماعت احمد یہ عالمگیر کے کینیڈا کی قوم سے خاص دوستانہ مراسم ہیں۔اس بنا پر میں آپ سے پر زور استدعا کرتا ہوں کہ اپنی تمام تر کوششیں صرف کر کے دنیا کی چھوٹی بڑی طاقتوں کو تیسری عالمی جنگ میں کودنے سے بچائیں۔میری آپ بلکہ تمام عالمی قائدین و عمائدین سے یہ درخواست ہے کہ دوسری اقوام کی راہنمائی کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی بجائے سفارت کاری، سیاسی بصیرت اور دانش مندی کو بروئے کار لائیں۔بڑی عالمی طاقتوں مثلاً امریکہ کو دنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور چھوٹے ممالک کی غلطیوں کو بہانہ بنا کر دنیا کانظم ونسق بر باد نہیں کرنا چاہیے۔آج صرف امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کے پاس ہی ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ نسبتاً چھوٹے ممالک بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان ممالک میں ایسے لوگ برسر اقتدار ہیں جو گہری سوجھ بوجھ اور سیاسی بصیرت سے عاری ہیں اور معمولی باتوں پر اشتعال میں آکر غلط فیصلے کر سکتے ہیں۔