عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 183
عالمی راہنماؤں کو خطوط مسٹر سٹیفن ہار پر وزیر اعظم کینیڈا اوٹا وہ۔اونٹاریو بسم اللہ الرحمن الرحیم محترم وزیر اعظم صاحب! دُنیا میں بڑھتے ہوئے پریشان کن حالات کے پیش نظر میں نے ضروری سمجھا کہ آپ کو یہ خط لکھوں کیونکہ آپ کینیڈا کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں اور اسی بنا پر آپ کو ایسے فیصلے کرنے کا اختیار ہے جو نہ صرف آپ کی قوم کے مستقبل پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔آج دنیا میں غیر معمولی بے چینی اور اضطراب پھیلا ہوا ہے۔بعض خطوں میں چھوٹے پیمانہ پرجنگیں لڑی جارہی ہیں اور بدقسمتی سے عالمی طاقتیں ان شورش زدہ علاقوں میں قیام امن کے لیے اس حد تک مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں جس کی اُن سے توقع کی جاتی ہے۔صاف دکھائی دے رہا ہے کہ آج دنیا کا ہر ملک یا تو کسی دوسرے ملک کا حمایتی ہے یا پھر کسی ملک کی دشمنی پر کمر بستہ ہے اور سبھی نے انصاف کا دامن چھوڑ دیا ہے۔آج عالمی حالات پر نظر ڈالنے والا جان سکتا ہے کہ ایک نئی عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے جو نہایت دکھ کی بات ہے۔دنیا کے کئی چھوٹے بڑے ممالک ایٹمی اثاثوں کے مالک ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک کی باہمی دشمنیاں، کینہ اور عداوتیں اپنے عروج پر ہیں۔اس گمبیر صورت حال میں تیسری عالمی جنگ کے بادل ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں اور ایسی جنگ میں ضرور ایٹمی ہتھیار بھی استعمال ہوں گے۔گویا یقیناً ہم خطر ناک تباہی کے دہانہ پر کھڑے ہیں۔اگر جنگِ عظیم دوم کے بعد عدل و انصاف سے پہلو تہی نہ کی جاتی تو آج ہم اس دلدل میں نہ پھنستے جہاں ایک بار پھر خطر ناک جنگ کے شعلے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کو تیار کھڑے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بنیادی محرکات میں لیگ آف نیشنز کی ناکامی اور 1932ء 183 83