عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 175

عالمی راہنماؤں کو خطوط صدر باراک اوباما بسم اللہ الرحمن الرحیم صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ وائٹ ہاؤس 1600 پنسلوینیا ایونیو۔این ڈبلیو واشنگٹن ڈی سی محترم صدر صاحب! 175 دنیا میں بڑھتے ہوئے پریشان کن حالات کے پیش نظر میں نے ضروری سمجھا کہ آپ کو یہ خط لکھوں کیونکہ آپ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے منصب پر فائز ہیں اور یہ ایسا ملک ہے جو سب سے بڑی عالمی طاقت ہے۔اسی بنا پر آپ کو ایسے فیصلے کرنے کا اختیار ہے جو نہ صرف آپ کی قوم کے مستقبل پر بلکہ عالمی سطح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔آج دنیا میں غیر معمولی بے چینی اور اضطراب پھیلا ہوا ہے۔بعض خطوں میں چھوٹے پیمانہ پر جنگیں لڑی جا رہی ہیں اور بدقسمتی سے عالمی طاقتیں ان شورش زدہ علاقوں میں قیام امن کے لیے اس حد تک مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں جس کی اُن سے توقع کی جاتی ہے۔صاف دکھائی دے رہا ہے کہ آج دنیا کا ہر ملک یا تو کسی دوسرے ملک کا حمایتی ہے یا پھر کسی ملک کی دشمنی پر کمر بستہ ہے اور سبھی نے انصاف کا دامن چھوڑ دیا ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ آج عالمی حالات پر نظر ڈالنے والا جان سکتا ہے کہ ایک نئی عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔دنیا کے کئی چھوٹے بڑے ممالک ایٹمی اثاثوں کے مالک ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک کی باہمی دشمنیاں، کینے اور عداوتیں اپنے عروج پر ہیں۔اس گمبھر صورت حال میں تیسری عالمی جنگ کے بادل ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔اور ایسی جنگ میں ضرور ایٹمی ہتھیار بھی استعمال ہوں گے۔گویا یقینا ہم خطرناک تباہی کے دہانہ پر کھڑے ہیں۔اگر جنگ عظیم دوم کے بعد