عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 176
176 عدل وانصاف سے پہلوتہی نہ کی جاتی تو آج ہم اس دلدل میں نہ پھنستے جہاں ایک بار پھر خطر ناک جنگ کے شعلے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بنیادی محرکات میں لیگ آف نیشنز کی نا کامی اور 1932ء میں رونما ہونے والا معاشی بحران سر فہرست تھا۔آج دنیا کے چوٹی کے ماہرین معاشیات برملا کہہ رہے ہیں کہ موجودہ دور کے معاشی مسائل اور 1932ء والے بحران میں بہت سی قدریں مشترک دکھائی دے رہی ہیں۔سیاسی اور اقتصادی مسائل نے کئی چھوٹے ممالک کو ایک بار پھر جنگ پر مجبور کر دیا ہے اور بعض ممالک داخلی بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ان تمام امور کا منطقی نتیجہ ایک عالمی جنگ کی صورت میں ہی نکلے گا۔اگر چھوٹے ممالک کے جھگڑے سیاسی طریق کار اور سفارت کاری کے ذریعہ حل نہ کیے گئے تو لازم ہے کہ دنیا میں نئے جتھے اور بلاک جنم لیں گے اور یقیناً یہ امر تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ہوگا۔ایسی صورت حال میں دنیا کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے زیادہ ضروری بلکہ ناگزیر ہے کہ ہم دنیا کو اس عظیم تباہی سے بچانے کی کوشش کریں۔بنی نوع انسان کو خدائے واحد کو پہچاننے کی سخت اور فوری ضرورت ہے جو سب کا خالق ہے اور انسانیت کی بقا کی یہی ایک ضمانت ہے ورنہ دنیا تو رفتہ رفتہ تباہی کی طرف گامزن ہے ہی۔میری آپ بلکہ تمام عالمی قائدین و عمائدین سے یہ درخواست ہے کہ دوسری اقوام کی راہنمائی کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی بجائے سفارت کاری، سیاسی بصیرت اور دانش مندی کو بروئے کار لائیں۔بڑی عالمی طاقتوں مثلاً امریکہ کو دنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور چھوٹے ممالک کی غلطیوں کو بہانہ بنا کر دنیا کا نظم ونسق بر باد نہیں کرنا چاہیے۔آج صرف امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کے پاس ہی ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ نسبتاً چھوٹے ممالک بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان ممالک میں ایسے لوگ برسر اقتدار ہیں جو زیادہ گہری سوجھ بوجھ اور سیاسی بصیرت سے عاری ہیں اور معمولی باتوں پر اشتعال میں آکر غلط فیصلہ کر سکتے ہیں۔میری آپ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ دنیا کی بڑی اور چھوٹی طاقتوں کو تیسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑ کانے سے باز رکھنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں وقف کر دیں۔اگر ہم قیام امن کی کوششوں میں ناکام رہے تو