عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 167
عالمی راہنماؤں کو خطوط بسم اللہ الرحمن الرحیم عزت مآب صدر صاحب اسلامی جمہوریہ ایران محمود احمدی نژاد - تهران محترم صدر صاحب! 167 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امن عالم کو درپیش حالیہ خطرات نے مجھے مجبور کیا کہ میں آپ کو یہ خط لکھوں۔آپ ایران کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے ایسے فیصلوں کا اختیار رکھتے ہیں جو نہ صرف آپ کی قوم کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے ہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔آج ہر طرف اضطراب اور بے چینی پھیلی ہوئی ہے یعنی دنیا کے کچھ خطوں میں چھوٹے پیمانہ پر جنگیں شروع ہو چکی ہیں جبکہ بعض اور علاقوں میں عالمی طاقتیں قیام امن کے بہانے سے مداخلت کر رہی ہیں۔آج دنیا کا ہر ملک یا تو کسی دوسرے ملک کی دشمنی پر کمر بستہ ہے یا کسی دوسرے ملک کا حمایتی بنا ہوا ہے لیکن انصاف کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف کوئی بھی متوجہ نہیں۔عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک اور عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔سب جانتے ہیں کہ دنیا کے کئی چھوٹے بڑے ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے دوسروں کے لیے بغض و کینہ اور دشمنیاں پال رکھی ہیں جو اپنے عروج پر ہیں۔اس مشکل صورتحال میں ہمیں تیسری عالمی جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادل صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ایٹمی ہتھیاروں کی یہ فراوانی صاف بتا رہی ہے کہ تیسری عالمی جنگ ایک ایٹمی جنگ ہوگی جس کی وجہ سے وسیع پیمانہ پر تباہی کے علاوہ ایسی جنگوں کا تلخ نتیجہ آئندہ نسلوں کے اپانی یا معذور پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔میرا ایمان ہے کہ امن کے سفیر اور رحمتہ للعالمین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناطہ سے ہمیں کبھی بھی برداشت نہیں ہوگا اور نہ ہم برداشت کر سکتے ہیں کہ دنیا میں ایسی تباہی واقع ہو۔لہذا ایران سے میری درخواست ہے کہ وہ اپنی عالمی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو کم کرنے