عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 168
168 میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔اس حقیقت میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں کہ عالمی طاقتوں نے دوہرا معیار اپنا رکھا ہے۔یقیناً یہ ان طاقتوں کی نا انصافی ہی ہے جس نے دنیا بھر میں بے چینی اور بدامنی پھیلا رکھی ہے۔تاہم اس حقیقت سے بھی فرار ممکن نہیں کہ بعض مسلم گروہ اسلامی تعلیم کے منافی اور نا واجب اعمال کے مرتکب ہورہے ہیں۔بڑی عالمی طاقتوں نے مسلم ممالک کی اس خامی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس صورتحال کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنالیا ہے اور غریب مسلم ممالک سے فوائد حاصل کیے جارہے ہیں۔چنانچہ میں ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں کہ اپنی تمام تر توجہ اور طاقت اس مقصد کے حصول کے لیے وقف کر دیں کہ دنیا سے تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بہر صورت ٹل جائے۔قرآن کریم مسلمانوں کو تعلیم دیتا ہے کہ کسی بھی ملک کی دشمنی تمہیں انصاف کی راہوں سے روکنے والی نہ ہو۔سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کرو۔اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں ) میں تعاون نہ کرو۔اور اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔“ اسی طرح قرآن کریم میں مسلمانوں کے لیے ہمیں درج ذیل حکم ملتا ہے: ( سورة المائدہ 3) ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔“ (سورۃ المائدہ:9) محض دشمنی اور نفرت کی بنا پر آپ کو دوسری قوم کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔میں مانتا ہوں کہ اسرائیل اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور اس کی نگاہیں ایران پر ہیں۔در حقیقت کوئی بھی ملک اگر آپ پر جارحانہ حملہ کرے تو آپ کو دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔تاہم جس حد تک ممکن ہو تصفیہ طلب امور کے لیے افہام وتفہیم اور مذاکرات کی راہ اپنانے میں ہی عافیت ہے۔میری آپ سے عاجزانہ استدعا ہے کہ اختلافی اُمور حل کرنے کے لیے طاقت کے