عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 152

152 اگر کوئی شخص کسی تعلیم کی طرف منسوب ہونے کے دعوی کے باوجود اس تعلیم پر صیح طور پر عمل پیرا نہیں ہوتا تو یہ اس فرد کا قصور ہے نہ کہ تعلیم کا۔لفظ اسلام کا مطلب ہی امن، محبت اور تحفظ ہے۔دین میں کوئی جبر نہیں ! قرآن کریم کا ایک واضح ارشاد ہے۔شروع سے آخر تک قرآن کریم محبت، پیار، امن اور مصالحت کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن کریم بار بار تا کید کرتا ہے کہ جو تقویٰ اختیار نہیں کرتا وہ اللہ سے بہت دُور ہے۔اس لیے اگر کوئی شخص اسلام کو شدت پسند، جبر وتشدد اور خونریزی کی تعلیم دینے والا مذہب بنا کر پیش کرتا ہے تو ایسی تصویر کشی کا حقیقی اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔جماعت احمدیہ مسلمہ حقیقی اسلام پر کار بند ہے اور محض خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کام کرتی ہے۔اگر کسی چرچ یا کسی اور عبادت گاہ کو حفاظت کی ضرورت پڑی تو وہ ہمیں اپنے شانہ بہ شانہ پائیں گے۔اگر ہماری مساجد سے کوئی پیغام گونجے گا تو وہ صرف یہی ہوگا کہ اللہ سب سے بڑا ہے! اللہ سب سے بڑا ہے! اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں! امن عالم کو تباہ کرنے میں ایک بڑا عنصر یہ ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ دانا تعلیم یافتہ اور آزاد خیال ہیں۔لہذا انہیں بانیان مذاہب کی تحقیر اور تذلیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔معاشرتی امن کے قیام کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص دل سے تمام کدورتیں نکال کر برداشت کے معیار کو بڑھائے۔ایک دوسرے کے انبیاء کی تکریم اور تعظیم کے دفاع میں اُٹھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔دنیا جس بے چینی اور اضطراب کے دور سے گزر رہی ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ پیار اور محبت کی فضا قائم کی جائے۔ہم اپنے ماحول میں باہمی اخوت اور محبت کے پیغام کو فروغ دیں اور یہ کہ ہم پہلے سے بڑھ کر رواداری کے ساتھ بہتر انداز میں رہنا سیکھیں اور انسانی اقدار کو مقدم رکھیں۔دورِ حاضر میں دنیا میں چھوٹے پیمانہ پر جنگیں شروع ہو چکی ہیں جبکہ بعض دوسری جگہوں پر عالمی طاقتیں اس بات کی دعویدار ہیں کہ وہ امن کے حصول کے لیے کوشش کر رہی ہیں۔یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ ظاہر میں کچھ اور بتایا جارہا ہے جبکہ باطن میں ان کی حقیقی ترجیحات کچھ اور ہیں جن کے لیے در پردہ اور خفیہ منصوبہ بندیوں پر عمل کیا جارہا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان حالات میں امن عالم قائم ہو سکتا ہے؟ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ اگر ہم دنیا کے موجودہ حالات کا غور سے جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ایک اور عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔اگر دوسری عالمی جنگ کے بعد عدل و انصاف کی راہ اپنائی جاتی تو آج دنیا کی یہ حالت نہ ہوتی جس کی وجہ سے یہ ایک بار پھر آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آچکی ہے۔متعدد ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے