عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 141

امنِ عالم۔وقت کی ضرورت 141 ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے حال ہی میں بعض بڑی طاقتوں کو عقل اور سمجھ عطا فرمائی اور انہیں یہ احساس پیدا ہوا کہ بڑے پیمانہ پر تباہی پھیلانے والی جنگ کو روکنے کے لیے انہیں قدم اُٹھانا چاہیے۔روس کے صدر نے بعض دوسری بڑی طاقتوں کو شام پر حملہ کرنے سے روکنے کی برمحل کوششیں کیں۔انہوں نے یہ واضح کیا کہ خواہ کوئی ملک بڑا ہو یا چھوٹا سب کے ساتھ مساویانہ سلوک ہونا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے گئے اور اگر بعض ممالک نے از خود جنگ چھیڑ دی تو پھر اقوام متحدہ کا بھی وہی حال ہو گا جو لیگ آف نیشنز کا ہوا تھا۔میرا خیال ہے کہ وہ اپنے اس تجزیہ میں بالکل درست ہیں۔مجھے ان کی تمام حکمت عملیوں سے اگر چہ اتفاق نہیں ہے لیکن دانائی کی بات کو قبول کرنا چاہیے۔کاش ! وہ ایک قدم اور آگے بڑھ کر کہتے کہ اقوام متحدہ کی سیکیو رٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کے پاس ویٹو کے حق کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہیے تا کہ تمام مالک کے مابین حقیقی عدل وانصاف قائم ہو سکے۔پچھلے سال مجھے کیپیٹل بل Capitol Hill) واشنگٹن ڈی سی میں خطاب کا موقع ملا۔حاضرین میں متعدد سینیٹرز کانگریس کے لوگ تھنک ٹینک کے نمائندگان اور مختلف طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ لوگ شامل تھے۔میں نے انہیں واضح طور پر کہا تھا کہ انصاف کے تقاضے صرف اسی صورت میں پورے ہو سکتے ہیں جب تمام ممالک سے مساوی سلوک کیا جائے۔میں نے انہیں کہا کہ اگر آپ بڑے اور چھوٹے ممالک اور امیر اور غریب اقوام کے مابین فرق کو نمایاں کریں گے اور اگر آپ ویٹو کی نا انصافی کو قائم رکھیں گے تو پھر یقینی طور پر اضطراب اور بے چینی پیدا ہوگی اور واقعہ یہ بے چینیاں دنیا میں نمودار ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ایک عالمگیر اسلامی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے میرا یہ فرض ہے کہ میں دُنیا کی توجہ قیام امن کی طرف مبذول کرواؤں۔میں یہ اپنا فرض سمجھتا ہوں کیونکہ اسلام کا مطلب ہی امن اور سلامتی ہے۔اگر بعض مسلمان ممالک نفرت انگیز اور انتہا پسند اقدامات کریں گے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ اسلامی تعلیم فساد اور بدامنی کو فروغ دیتی ہے۔میں نے ابھی قرآن کریم کی ایک آیت کا حوالہ دیا ہے جس میں قیام امن کا طریق سکھایا گیا ہے۔مزید برآں بانی اسلام حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو یہ تعلیم دی کہ ہمیشہ سلام کیا