عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 124

124 حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی بھی معصوم کا خون بہانے والا شخص مسلمان نہیں ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں ایسے لوگ کمزور ایمان والے اور گناہ گار ہیں۔اب میں اسلام کے چند اور پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہوں جن سے ثابت ہو جائے گا کہ اسلامی تعلیمات کتنی درست ، روشن خیال اور اعلیٰ ہیں اور بعض نام نہاد اسلامی فرقے اسلام کی جو تصویر پیش کرتے ہیں اس سے کسی بھی طور حقیقی اسلام کی نمائندگی نہیں ہوتی۔یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ ان کے ایسے اقدامات کا مقصد صرف اپنے مذموم مفادات کی تکمیل ہے جن کی خاطر وہ اپنے افعال شنیعہ کے جواز کے لیے اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں۔مذہبی رواداری کی اہمیت پر جتنا زور اسلام دیتا ہے وہ اعلیٰ معیار کسی اور جگہ مانا ناممکن ہے۔دیگر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جب تک دوسرے مذاہب کو غلط ثابت نہ کر دیا جائے اس وقت تک ان کے مذہب کی صداقت ثابت نہیں ہو سکتی جبکہ اسلام کا نقطہ نظر اس کے برعکس ہے۔اسلامی تعلیم یہ ہے کہ اسلام ایک سچا مذ ہب ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لیے بھیجا گیا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خدا کے تمام انبیاء دُنیا کی تمام اقوام اور لوگوں کی طرف بھیجے گئے۔اس بات کا قرآن کریم میں واضح طور پر ذکر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام انبیاءخدا کی طرف سے پیار اور محبت کی تعلیم دے کر مبعوث کیے گئے۔لہذا تمام سچے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ بلا تفریق ان سب پر ایمان لائیں۔دوسرا کوئی بھی مذہب اپنے علاوہ دیگر مذاہب اور اقوام کی اس وثوق اور وضاحت کے ساتھ تعریف نہیں کرتا جیسی اسلام کرتا ہے۔مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر قوم اور ہر علاقہ کے لوگوں میں انبیاء مبعوث ہوئے اس لیے وہ انہیں جھوٹا سمجھ ہی نہیں سکتے۔لہذا مسلمانوں کو خدا کے تمام انبیاء میں سے کسی ایک کی بھی تحقیر یا تضحیک کی ہرگز اجازت نہیں اور نہ ہی یہ اجازت ہے کہ کسی مذہب کے پیروکاروں کی دل آزاری کی جائے۔نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض غیر مسلموں کا رویہ اس کے بالکل برعکس ہے۔وہ بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف دینے تضحیک کرنے اور دشنام طرازی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اس طرح وہ مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں۔ہم اپنے عقاید کی وجہ سے مخلصانہ مذہبی رواداری اور باہمی ہم آہنگی کے خواہاں ہیں۔بدقسمتی سے جب بعض طبقے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں تو بعض نام نہاد مسلمان اس