عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 125

اسلام۔امن اور محبت کا مذہب 125 اشتعال انگیزی کے رد عمل کے طور پر یکسر غلط اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنا لیتے ہیں۔ان کے رد عمل اور جواب کا حقیقی اسلامی تعلیمات سے کوئی واسطہ نہیں اور آپ یقینا کبھی بھی کسی احمدی مسلمان کی طرف سے اس طرح کا منفی رد عمل نہیں دیکھیں گے خواہ اُسے کتنا ہی اشتعال دلایا جائے۔ایک گھناؤنا الزام جو بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر لگایا جاتا ہے یہ ہے کہ انہوں نے انتہا پسندی کی تعلیم دی اور اسلام کی تبلیغ کے لیے طاقت کے استعمال کو فروغ دیا، اس الزام کا جائزہ لینے اور حقیقت جاننے کے لیے دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کیا فرماتا ہے: ترجمہ: اور اگر تیرارب چاہتا تو جو بھی زمین میں بستے ہیں اکٹھے سب کے سب ایمان لے آتے۔تو کیا تو (سورة يونس: 100) لوگوں کو مجبور کر سکتا ہے۔حتی کہ وہ ایمان لانے والے ہو جائیں؟ یہ آیت واضح کر رہی ہے کہ تمام قدرتوں کا مالک خدا بآسانی تمام انسانوں کو جبراً ایک ہی مذہب پر اکٹھا کر سکتا تھا لیکن اس کی بجائے اس نے انسانوں کو اختیار دے دیا ہے کہ چاہیں تو ایمان لائیں اور چاہیں تو ایمان نہ لائیں۔اور جب خدا نے بنی نوع انسان کو آزادی اور اختیار دیا ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کا کوئی بھی پیروکار کسی کو کسی بھی طرح جبر مسلمان بنا سکے؟ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے: ترجمہ: اور کہہ دے کہ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے ہو۔پس جو چاہے وہ ایمان لے آئے (سورة الكهف: 30) اور جو چاہےسوا نکار کر دے۔یہ اسلام کی حقیقت ہے۔یہ اسلام کی حقیقی تعلیم ہے۔اگر کسی کا دل چاہتا ہے تو اُسے اسلام کو قبول کرنے کی آزادی ہے لیکن اگر اس کا دل مطمئن نہیں ہے تو اُسے انکار کرنے کی بھی آزادی ہے۔چنانچہ اسلام کلیۂ جبروا کراہ اور انتہا پسندی کے خلاف ہے بلکہ اسلام معاشرہ کے تمام طبقات میں امن اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔دراصل اسلام کے لیے زبر دستی اور جبر و اکراہ کی تعلیم دینا ناممکن محض ہے کیونکہ لفظ اسلام کا مطلب ہی امن کے ساتھ رہنا اور دیگر تمام بنی نوع انسان کو امن فراہم کرنا ہے۔تاہم جب ہمارے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو