عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 121
اسلام - امن اور محبت کا مذہب بسم اللہ الرحمن الرحیم معزز مہمانان گرامی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ سب پر اللہ کی رحمتیں اور برکات نازل ہوں۔سب سے پہلے میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے ان دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جماعت احمد یہ برطانیہ کی صد سالہ تقریب کے موقع پر ہم سے اپنی دوستی اور گہرے تعلق کے اظہار کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں اس تقریب کا انعقاد کیا ہے۔میں اُن تمام مہمانوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے آج کی تقریب میں شامل ہو کر اسے کامیاب بنانے میں حصہ لیا ہے۔مجھے خوشی ہے کہ آپ میں سے اکثر اپنی مصروفیات اور میٹنگز چھوڑ کر یہاں تشریف لائے۔تشکر کے ان جذبات کے ساتھ میری یہ بھی خواہش اور دُعا ہے کہ وہ تمام شعبہ جات اور احباب جو اس دلکش اور عالیشان عمارت میں کام کرتے ہیں اس ملک اور اس کے رہنے والوں کی خدمت کے حقوق ادا کرنے کی کماحقہ توفیق پائیں۔نیز انہیں دیگر ممالک سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی احسن رنگ میں توفیق ملے اور انصاف سے کام لیتے ہوئے ایسے فیصلے کرنے والے ہوں جو سب کے لیے مفید ہوں۔اگر یہ رُوح پیدا ہو جائے تو اس سے محبت، ہمدردی اور اخوت جیسے بہترین نتائج پیدا ہوں گے اور دُنیا حقیقی امن اور خوش حالی کا گہوارہ بن جائے گی۔میرے ساتھ ساتھ تمام احمدی مسلمانوں کی بھی یہی خواہش اور دُعا ہے کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ وطن سے اور بحیثیت مجموعی انسانیت سے گہری محبت بہت ضروری ہے۔دراصل احمدی مسلمانوں کا ایمان ہے کہ وطن سے محبت ایمان کا جزو ہے کیونکہ یہ بانی اسلام حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تاکیدی حکم اور تعلیم ہے۔پس میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہر وہ احمدی مسلمان جو برطانیہ کا شہری ہے خواہ اس کی پیدائش برطانیہ