عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 111
کیا مسلمان مغربی معاشرہ میں ضم ہو سکتے ہیں؟ 111 محنت کے بعد بھی یا کسی معاشی بحران کی صورت میں عین ممکن ہے کہ ان کا قرض جوں کا توں باقی ہو یا پہلے سے بھی بُری حالت میں ہو جائے۔حالیہ چند برسوں کے دوران ہم نے ایسی ان گنت مثالیں مشاہدہ کی اور سنی ہیں۔جب دنیا کے کئی حصے مالی بحرانوں نے غارت کیے۔اسلام پر ایک الزام اکثر لگایا جاتا ہے کہ اس میں عورت کو مساوی حقوق حاصل نہیں۔یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔اسلام نے عورت کو عزت و وقار دیا ہے۔میں ایک دو مثالیں دیتا ہوں۔اسلام نے اس وقت عورت کو خاوند کے غلط رویہ رکھنے پرضلع کا حق دیا جب عورت صرف ملکیتی چیز یا متاع خرید و فروخت سمجھی جاتی تھی۔جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں عورت کا یہ حق مناسب طریق سے ابھی گزشتہ صدی میں ہی تسلیم کیا گیا ہے۔مزید برآں اسلام نے عورت کو اُس وقت وراثت کا حق بخشا جب عورت کا کوئی مرتبہ اور اہمیت نہیں سمجھی جاتی تھی۔یورپ میں عورت کو یہ حق نسبتاً حال ہی میں ملا ہے۔اسلام ہمسایوں کے حقوق کا بھی تعین کرتا ہے۔قرآن پاک اس سلسلہ میں تفصیل سے راہنمائی کرتا ہے کہ ہمسایہ کون ہے اور اس کے حقوق کیا ہیں؟ جو آپ کے ساتھ بیٹھتا ہے وہ بھی ہمسایہ ہے اور جو آس پاس کے گھروں میں ہیں چاہے آپ انہیں جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔در حقیقت ہمسائیگی کا دائرہ چالیس گھروں تک وسیع ہے۔وہ لوگ بھی ہمسایوں میں شامل ہیں جو آپ کے ہم سفر ہیں۔لہذا آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کا خیال رکھیں۔اس حق پر اتنا زور دیا گیا کہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں خیال ہوا کہ غالباً ہمسایہ کو وراثت میں بھی شامل کر دیا جائے گا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ وہ شخص جس سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہیں ہرگز مسلمان یا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔دوسروں کی بہتری کے لیے اسلام کا ایک حکم یہ بھی ہے کہ تمام لوگ کمزور اور بے آسرا افراد کی مدد اور معاشرتی حالت بہتر بنانے کی ذمہ داری مل جل کر اٹھا ئیں۔پس اپنا کردار ادا کرنے اور ان تعلیمات پر عمل کو فروغ دینے کے لیے جماعت احمدیہ مسلمہ دنیا کے غریب اور محروم ممالک میں ابتدائی اور اعلی تعلیمی وسائل مہیا کر رہی ہے۔ہم سکول چلا رہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف دے رہے ہیں تا کہ محروم لوگ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔اسلام کا ایک اور حکم یہ ہے کہ تمہیں اپنے وعدے ہر حال میں پورے کرنے چاہئیں اور معاہدات کی